سولر پاور نے پاکستان کو توانائی بحران سے بچایا
سولر پاور کے بڑھتے رجحان نے پاکستان کو مشرقِ وسطیٰ کی جنگ کے اثرات سے کافی حد تک محفوظ رکھا ہے۔ توانائی کے شعبے میں اہم ریلیف فراہم کیا ہے۔
مہنگے ایندھن سے بچت
ماہرین کے مطابق پاکستان اس سال مہنگا تیل اور گیس خریدنے کے بجائے سولر توانائی کے باعث بڑی مالی بچت حاصل کر رہا ہے۔ جس سے معیشت پر دباؤ کم ہوا ہے۔
اربوں ڈالر کی بچت
غیر ملکی جریدے کے مطابق پاکستان رواں سال تقریباً 6 اعشاریہ 3 ارب ڈالر کی بچت کر سکتا ہے۔ جو توانائی درآمدات میں کمی کا نتیجہ ہے۔
پیٹرولیم قیمتوں پر اثر
جنگ کے بعد حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا، تاہم اگر سولر پاور کا استعمال نہ ہوتا تو یہ اضافہ مزید زیادہ ہو سکتا تھا۔
توانائی کا متبادل حل
سولر پاور نہ صرف سستی اور ماحول دوست توانائی فراہم کر رہی ہے۔ بلکہ پاکستان کو بیرونی ایندھن پر انحصار سے بھی بتدریج آزاد کرنے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق شمسی توانائی کے بڑھتے ہوئے۔ استعمال سے درآمدی تیل اور گیس پر اخراجات میں کمی آ رہی ہے۔ جس سے ملکی معیشت کو سہارا مل رہا ہے۔ اس کے علاوہ سولر سسٹمز کی تنصیب میں اضافہ توانائی کے بحران پر قابو پانے اور بجلی کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنانے میں بھی مددگار ثابت ہو رہا ہے۔ حکومتی اقدامات اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری کے باعث ملک میں قابلِ تجدید توانائی کا رجحان تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔ جو نہ صرف ماحولیاتی آلودگی میں کمی لاتا ہے۔ بلکہ مستقبل میں پائیدار ترقی کی راہ بھی ہموار کرتا ہے۔
مزید پڑھیں
علی لاریجانی کی شہادت کا بدلہ، ایران کی اسرائیل پر میزائلوں کی بارش، 2 ہلاک











