مولانا فضل الرحمان کا بیان
پاکستان کی حالیہ سفارتی سرگرمیوں پر مختلف سیاسی و مذہبی رہنماؤں کی جانب سے ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پاکستان نے دنیا کے معاملات کو سلجھانے کی اپنی صلاحیت ثابت کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج عالمی طاقتیں اسی سرزمین پر بیٹھ کر امن کی بات کر رہی ہیں، جو ایک بڑی کامیابی ہے۔
عالمی سطح پر پاکستان کا کردار
مولانا فضل الرحمان کے مطابق، پاکستان نے حالیہ دنوں میں جو سفارتی کردار ادا کیا، وہ قابلِ تحسین ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ برسوں سے جس مقام پر پاکستان کو دیکھنے کی خواہش تھی، اب وہ حقیقت بنتی دکھائی دے رہی ہے۔ پاکستان عالمی مسائل کے حل کے لیے ایک مؤثر ثالث کے طور پر ابھر رہا ہے۔ یہ ملک کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی اہمیت کا واضح ثبوت ہے۔
خطے کی صورتحال پر مؤقف
اپنے خطاب میں مولانا فضل الرحمان نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر بھی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے جو فلسطینیوں پر ظلم کر رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے عوام اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔ اس پر امت مسلمہ کا موقف یکجا ہے اور وہ اسرائیل کی غاصبانہ کارروائیوں کے خلاف متحد ہیں۔
سیاسی تنقید اور داخلی حالات
مولانا فضل الرحمان نے ملکی سیاست پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت عوامی حمایت سے محروم ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایسی حکومتیں زیادہ دیر نہیں چل سکتیں اور عوام جلد اپنے فیصلے کا اظہار کرتے ہیں۔ اس بات کا اشارہ دیتے ہوئے کہ عوامی رائے کی اہمیت حکومت کے لیے ناگزیر ہے۔
قومی اتحاد کی ضرورت
مولانا فضل الرحمان نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں قومی یکجہتی نہایت ضروری ہے۔ پاکستان کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تمام طبقات کو متحد ہو کر کردار ادا کرنا ہوگا۔ اس کے ذریعے ملک کو استحکام کی راہ پر گامزن کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی و سماجی یکجہتی سے ہی پاکستان کا مستقبل روشن ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیں
نام نہاد ناکہ بندی پر قالیباف کا طنز، آپ 4 ڈالر والا پیٹرول یاد کریں گے











