پنجاب سے گندم اور آٹے کی ترسیل میں رکاوٹ، کے پی میں آٹا مہنگا ہوگیا شدید بمباری کے باوجود ایران کے پاس اب بھی 70 فیصد میزائل ذخیرہ موجود ہے: سی آئی اے چار جولائی تک تجارتی معاہدہ کریں ورنہ بھاری ٹیرف لگے گا، ٹرمپ کی یورپی یونین کو دھمکی پاکستان نے بنگلادیش کے خلاف پہلے ٹیسٹ میں ٹاس جیت کر فیلڈنگ کا فیصلہ کر لیا
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

نام نہاد ناکہ بندی پر قالیباف کا طنز، آپ 4 ڈالر والا پیٹرول یاد کریں گے

Iranian parliament speaker response on Hormuz blockade

نام نہاد ناکہ بندی پر ایران کا سخت ردعمل

ایران نے آبنائے ہرمز سے متعلق بیانات پر سخت ردعمل دیا ہے۔ ایرانی قیادت نے واضح کیا کہ کسی بھی دباؤ یا دھمکی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔ ایران نے کہا کہ وہ اپنے مفادات کا دفاع کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ وہ کسی غیر قانونی اقدام کو برداشت نہیں کرے گا۔

قالیباف کا طنزیہ بیان

ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر طنز کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ناکہ بندی کی گئی تو دنیا جلد ہی سستے پیٹرول کو یاد کرے گی۔ ان کا اشارہ عالمی منڈی میں ایندھن کی بڑھتی قیمتوں کی طرف تھا۔ قالیباف نے مزید کہا کہ ایران کی اہمیت کو نظر انداز کرنا عالمی مارکیٹ کے لیے خطرناک ہوگا، کیونکہ ایران دنیا کے سب سے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔

سخت انتباہ

قالیباف نے خبردار کیا کہ ایران کے عزم کو آزمانے کی کوشش نہ کی جائے۔ ان کے مطابق، اگر جنگ مسلط کی گئی، تو ایران بھرپور جواب دے گا۔ تاہم، اگر بات چیت کا راستہ اختیار کیا گیا، تو ایران مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران ہمیشہ امن کی کوشش کرتا ہے۔

مذاکرات میں پیش رفت

ایرانی وفد کا کہنا ہے کہ ایران نے اپنی نیک نیتی ثابت کرنے کے لیے کئی مثبت اقدامات کیے ہیں۔ ان اقدامات کے نتیجے میں مذاکرات میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے۔ ایران عالمی سطح پر اپنے اتحادیوں کے ساتھ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے تیار ہے۔

خطے میں بڑھتی کشیدگی

ماہرین کے مطابق، ایسے بیانات خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔ خاص طور پر جب عالمی سطح پر توانائی کی فراہمی اور تجارت دباؤ کا شکار ہو۔ ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کے اثرات پورے خطے پر ہوں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کو مفاہمت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، تاکہ عالمی استحکام برقرار رکھا جا سکے۔

مزید پڑھیں

لعل شہباز قلندر کے مزار کی نذرانے کی پیٹیاں کھول دی گئیں، 2 کروڑ 38 لاکھ سے زائد رقم برآمد

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

:متعلقہ مضامین