پشاور
پاک افغان سرحد پر طویل عرصے سے جاری بندش اور سرحدی تجارت و ٹرانزٹ کی معطلی کے باعث خیبر پختونخوا کو شدید مالی نقصان کا سامنا ہے۔ اس صورتحال نے صوبے کی معیشت، ریونیو وصولیوں اور روزگار کے مواقع پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔
آئی ڈی سی کلیکشن میں نمایاں کمی
خیبر پختونخوا محصولاتی ادارے کے مطابق رواں مالی سال کے دوران انفراسٹرکچر ترقیاتی محصول (آئی ڈی سی) کی مد میں وصولیوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ سرحدی تجارت کی بندش کے باعث محصول کے اہم ذرائع متاثر ہوئے ہیں۔
وفاق سے رابطہ، معاشی بحران پر تشویش
شدید ریونیو خسارے، معاشی جمود اور روزگار کے بڑھتے ہوئے بحران پر خیبر پختونخوا حکومت نے وفاق سے باضابطہ رابطہ کر لیا ہے۔ صوبائی حکومت کا مؤقف ہے کہ سرحدی بندش نے صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔
اعلیٰ سطحی اجلاس بلانے کی سفارش
مراسلے میں صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر وفاقی اور صوبائی اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی اجلاس بلانے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ مسئلے کا فوری اور پائیدار حل نکالا جا سکے۔
سات ماہ میں اربوں روپے کا خسارہ
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال 2024-25 میں جولائی سے جنوری تک سات ماہ کے دوران مجموعی آمدن 7 ارب 42 کروڑ روپے رہی، جو کہ مجموعی تخمینے سے چار ارب روپے کم ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر سرحدی صورتحال برقرار رہی تو مالی نقصان میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیں
لاہور مین ہول حادثہ: جاں بحق ماں بیٹی کی نمازِ جنازہ آج، میتیں آبائی گاؤں پہنچ گئیں










