اگر استعفے سے کراچی بچتا ہے تو ابھی چھوڑنے کو تیار ہوں، مصطفیٰ کمال بالائی علاقوں میں برف کا قہر، رابطہ سڑکوں کی بندش، 2 افراد جاں بحق لاہور میں لٹکتی تاروں اور اوورلوڈ کیبلز کے مسئلے پر کمیٹی قائم
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

اپوزیشن حکومت سے مذاکرات پر آمادہ، نیا چیف الیکشن کمشنر کیوں ضروری قرار؟

Opposition demands new Chief Election Commissioner and shows readiness for talks with government

اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان نے نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کا باضابطہ مطالبہ کر دیا ہے اور ساتھ ہی 2024 کے عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی جامع تحقیقات کا بھی مطالبہ سامنے آیا ہے۔

عام انتخابات 2024 کی شفاف تحقیقات کا مطالبہ

اپوزیشن اتحاد کی قومی مشاورتی کانفرنس کے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ شفاف انتخابات جمہوریت کی مضبوط بنیاد ہیں، اس لیے انتخابات میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات ناگزیر ہیں۔ اعلامیے کے مطابق جمہوری نظام کی بحالی اور مستحکم سیاسی ماحول کے لیے نئے اور شفاف انتخابات ضروری ہیں۔

نیا چیف الیکشن کمشنر کیوں ضروری قرار؟

اعلامیے میں واضح طور پر نئے چیف الیکشن کمشنر کی تقرری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ شفاف انتخابی سسٹم کے لیے ایسے الیکشن کمشنر کی ضرورت ہے جس پر تمام سیاسی جماعتوں کا اعتماد ہو۔ اپوزیشن اتحاد کا ماننا ہے کہ غیر جانبدار چیف الیکشن کمشنر جمہوری نظام کے استحکام کے لیے اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

اپوزیشن مذاکرات کے لیے تیار

مشترکہ اعلامیے میں اپوزیشن اتحاد نے اس بات کا عندیہ بھی دیا کہ وہ حکومت سے مذاکرات کے لیے تیار ہیں تاکہ سیاسی کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور ملک کو درپیش مسائل کا حل نکالا جا سکے۔

دیگر اہم مطالبات

اعلامیے میں کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی اور ان کی اہلیہ سے ملاقاتوں پر لگی پابندی ختم کی جائے اور پیکا قانون کو واپس لیا جائے۔
ساتھ ہی ملک میں بڑھتی مہنگائی اور ٹیکسوں میں کمی کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ مزید برآں خیبرپختونخوا میں امن جرگے کے متفقہ فیصلوں پر عملدرآمد، این ایف سی ایوارڈ میں صوبے کے حق کی فراہمی اور معدنیات سے متعلق عوام کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ بھی شامل ہے۔

طلبہ سیاست کی بحالی کا مطالبہ

اپوزیشن اتحاد نے اسٹوڈنٹس یونین پر عائد پابندی ختم کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور اعلان کیا کہ صوبائی ہیڈ کوارٹرز میں مزید مشاورتی کانفرنسز منعقد کی جائیں گی۔

مزید پڑھیں

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

:متعلقہ مضامین