لاہور مین ہول حادثہ: جاں بحق ماں بیٹی کی نمازِ جنازہ آج، میتیں آبائی گاؤں پہنچ گئیں پاک افغان سرحد کی بندش سے پختونخوا کو 7 ماہ میں 4 ارب روپے کا بھاری نقصان اڈیالہ جیل کا قیدی سزا مکمل کیے بغیر رہا نہیں ہوگا، فیصل کریم کنڈی بھاٹی گیٹ واقعہ: وزیراطلاعات پنجاب نے متاثرہ خاندان سے معافی مانگ لی
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ:بائیکاٹ کے باوجود بھارت کو سری لنکا جانا کیوں لازم؟

India Pakistan T20 World Cup match Sri Lanka boycott news

پاکستان کا بھارت کے خلاف بائیکاٹ فیصلہ

پاکستان نے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے، لیکن بھارت کے خلاف 15 فروری کو شیڈول میچ نہ کھیلنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف اور پی سی بی چیئرمین محسن نقوی کی ملاقات کے بعد حکومت نے اعلان کیا کہ پاکستان ورلڈکپ میں شامل رہے گا لیکن بھارت کے خلاف میچ کا بائیکاٹ کرے گا۔

بائیکاٹ کے اثرات اور دو پوائنٹس کا مسئلہ

پاکستان کے بائیکاٹ کی وجہ سے بھارت کو اس میچ کے دو پوائنٹس ملیں گے۔ آئی سی سی قوانین کے مطابق بھارت کو یہ پوائنٹس حاصل کرنے کے لیے میچ کے مقام پر وقت پر پہنچنا ہوگا اور میچ کے شیڈول کے مطابق پریکٹس، پریس کانفرنس اور اسٹیڈیم میں موجودگی دینی ہوگی۔ پھر ریفری کے باضابطہ فیصلے کے بعد میچ منسوخ ہوگا اور پوائنٹس بھارت کو دیے جائیں گے۔

بھارتی ٹیم کا عمل اور پروٹوکول

بھارتی کرکٹ بورڈ کے ذرائع کے مطابق ٹیم آئی سی سی پروٹوکول کے مطابق عمل کرے گی۔ بھارتی ٹیم 15 فروری کو سری لنکا میں شیڈول کے مطابق تمام سرگرمیاں انجام دے گی اور ریفری کے فیصلے کا انتظار کرے گی تاکہ پوائنٹس حاصل ہو سکیں۔

ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2026 کے گروپز

آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 7 فروری سے شروع ہوگا۔ پاکستان کے گروپ میں بھارت کے علاوہ نمیبیا، نیدرلینڈز اور امریکا شامل ہیں۔ پاکستان کے بائیکاٹ کے باوجود ورلڈکپ میں شرکت کی اہمیت برقرار ہے اور ٹیم عالمی مقابلوں میں اپنا موقف برقرار رکھے گی۔
مزید پڑھیں
کراچی میں سیکیورٹی ہائی الرٹ، پولیو مہم میں 7 ہزار سے زائد پولیس اہلکارتعینات

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

:متعلقہ مضامین