امریکی ریاست فلوریڈا میں نجی طیارے کے خوفناک حادثے سے چند لمحے قبل ایئر ٹریفک کنٹرول کو کی جانے والی ہنگامی کال کی آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی ہے۔ ریکارڈنگ میں طیارے کے عملے کو مسلسل مدد طلب کرتے اور تیزی سے بلندی کھوتے طیارے کی صورتِ حال سے آگاہ کرتے سنا جاسکتا ہے۔
یکم نومبر 2026 کو پیش آنے والے اس حادثے میں لیرجیٹ 60 طیارہ پام بیچ کاؤنٹی کے علاقے گرین ایکرز میں گر کر تباہ ہوگیا تھا، جس کے نتیجے میں طیارے میں سوار تمام 9 افراد ہلاک ہوگئے۔ ریکارڈنگ میں ایک خاتون عملے کی رکن کے الفاظ ’ہمارے پاس وقت ختم ہوچکا ہے‘ بھی سنائی دیتے ہیں۔
طیارے میں اچانک ہنگامی صورتِ حال پیدا ہوگئی
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق طیارہ ٹیکساس کے شہر آسٹن سے بہاماس کے لیے روانہ ہوا تھا۔ دورانِ پرواز عملے نے ایئر ٹریفک کنٹرول کو موسم کی خرابی، شدید فضائی جھٹکوں اور طیارے پر برف جمنے سے متعلق آگاہ کیا۔
ابتدائی طور پر پائلٹ نے بتایا کہ طیارے پر ہلکی برف جم رہی ہے اور درمیانے درجے کی فضائی بے چینی کا سامنا ہے۔ عملے نے بہتر فضائی حالات کے لیے مزید بلندی پر جانے کی درخواست بھی کی، تاہم کچھ ہی دیر بعد صورتِ حال تیزی سے خراب ہوگئی۔
’مے ڈے، مے ڈے‘ کی ہنگامی کال
ایئر ٹریفک کنٹرول کی ریکارڈنگ کے مطابق طیارے کے عملے نے ہنگامی صورتِ حال کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ جہاز تقریباً 8 ہزار فٹ فی منٹ کی رفتار سے نیچے آرہا ہے۔
بعد ازاں خاتون عملے کی رکن نے بتایا کہ طیارہ 10 ہزار فٹ فی منٹ کی رفتار سے بلندی کھو رہا ہے۔ چند لمحوں بعد یہ رفتار مزید بڑھ گئی اور عملے نے کنٹرولر کو بتایا کہ طیارہ تیزی سے نیچے کی جانب جارہا ہے۔
’ہمارے پاس وقت ختم ہوچکا ہے‘
ریکارڈنگ کا سب سے پریشان کن حصہ وہ ہے جب خاتون عملے کی رکن کو یہ کہتے سنا گیا کہ ان کے پاس وقت ختم ہوچکا ہے۔ اس سے قبل طیارے کے عملے نے زمین سے ٹکرانے کے خدشے کا بھی اظہار کیا تھا۔
ایئر ٹریفک کنٹرولر مسلسل عملے سے رابطہ برقرار رکھنے کی کوشش کرتا رہا اور انہیں جواب دینے کی ہدایت دیتا رہا، تاہم طیارے کی صورتِ حال مزید خراب ہوتی چلی گئی۔ کچھ ہی دیر بعد رابطہ منقطع ہوگیا اور طیارہ گر کر تباہ ہوگیا۔
20 سالہ خاتون کو پائلٹ کے طور پر رپورٹ کیا گیا
بعض میڈیا رپورٹس میں 20 سالہ ناتھالیا گیڈیلہا فِلگیراس کو طیارے کی خاتون فرسٹ آفیسر اور معاون پائلٹ بتایا گیا ہے۔ ان کی ایئر ٹریفک کنٹرول سے ہونے والی گفتگو بھی حادثے کی ریکارڈنگ میں شامل بتائی گئی ہے۔
تاہم، حادثے کے تمام متاثرین کی شناخت اور طیارے میں ہر فرد کی ذمہ داریوں سے متعلق تفصیلات کو سرکاری تحقیقات اور مستند حکام کے بیانات کی روشنی میں دیکھنا ضروری ہے۔
حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات جاری
امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن اور نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ حادثے کی تحقیقات کررہے ہیں۔ ابتدائی اطلاعات میں موسم کی خرابی، طیارے پر برف جمنے اور شدید فضائی جھٹکوں کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم حادثے کی حتمی وجہ ابھی ثابت نہیں ہوئی۔
تحقیقات کے دوران ایئر ٹریفک کنٹرول کی ریکارڈنگ، پرواز کا ڈیٹا اور طیارے کے ملبے کا جائزہ لیا جائے گا تاکہ معلوم ہوسکے کہ حادثے سے پہلے کیا ہوا تھا اور طیارہ قابو سے باہر کیوں ہوا۔
مزید پڑھیں
سندھ میں میڈیکل داخلوں کے لیے انٹرمیڈیٹ نمبروں میں ردوبدل کا بڑا اسکینڈل بے نقاب










