جدہ میں وزیراعظم اور محمد بن سلمان کی ملاقات، تعلقات مضبوط بنانے پر گفتگو فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تہران میں ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات، اعلیٰ حکام بھی شریک بیساکھی میلہ، بھارتی یاتریوں کا شاندار استقبال، پاکستان کی مہمان نوازی کی تعریف بھکر میں تیل سے بھرا ٹینکر الٹ گیا، ایم ایم روڈ بند، کراچی تا پشاور ٹریفک معطل
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

فتنۃ الخوارج کا زخمی ایف سی اہلکاروں کی ایمبولینس پر حملہ، آگ لگا کر زندہ جلا دیا

FC personnel attacked in ambulance by militants

کراچی/پشاور

فتنۃ الخوارج نے کرک کے علاقے قلعہ شہیدان میں فیڈرل کانسٹیبلری کے زخمی اہلکاروں کو لے جانے والی ریسکیو 1122 کی ایمبولینس پر حملہ کر کے انہیں زندہ جلا دیا۔

شہید اہلکار اور مقامی شناخت

آگ میں جل کر شہید ہونے والے اہلکار فیڈرل کانسٹیبلری کے مقامی پختون تھے۔ شہداء میں سپاہی مراد گل، سپاہی ایان خان اور لانس نائیک عادل خان شامل ہیں۔ مراد گل اور ایان خان ضلع ہنگو سے تعلق رکھتے تھے۔ جبکہ عادل خان ضلع مانسہرہ سے تھے۔

ایمبولینس پر حملہ اور ریسکیو کارروائی

حملے کے بعد دو ایمبولینس زخمیوں کو لینے پوسٹ پر پہنچی۔ لیکن فتنۃ الخوارج نے واپسی پر ایک ایمبولینس کو آگ لگا دی۔ دوسری ایمبولینس زخمیوں کو محفوظ طور پر اسپتال پہنچانے میں کامیاب رہی۔ آگ میں ایمبولینس کا ڈرائیور اور ریسکیو 1122 کا ایک اہلکار بھی جھلس گیا۔

زخمی اہلکاروں کا علاج

زخمی اہلکاروں میں حوالدار صابر، محمد یوسف، حنیف اور ایمبولینس ڈرائیور احمد حسین شامل ہیں۔ تمام زخمیوں کو علاج کے لیے بنوں اور کرک کے اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

انسانی اور اسلامی نقطہ نظر

اسلام میں جنگ کے دوران بھی زخمیوں پر حملہ کرنا اور انہیں نقصان پہنچانا حرام ہے۔ فتنۃ الخوارج نے ایک بار پھر واضح کر دیا۔ کہ ان کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور یہ عناصر انسانیت اور مذہب سے لاعلم ہیں۔

سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری

ان جوانوں کا لہو رائیگاں نہیں جائے گا، اور ان شاء اللہ فتنۃ الخوارج کے خاتمے تک سیکیورٹی فورسز کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

مزید پڑھیں
پنجاب حکومت کا نالوں کی بحالی و مرمت کا میگا منصوبہ شروع کرنے کا فیصلہ

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

:متعلقہ مضامین