مقبوضہ مغربی کنارے میں متنازع ای ون آبادکاری منصوبے پر یورپی یونین نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل سے منصوبے سے متعلق ٹینڈر منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یورپی یونین کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے اقدامات خطے میں امن کی کوششوں اور دو ریاستی حل کے امکانات کو متاثر کرسکتے ہیں۔
یورپی یونین کا سخت مؤقف
یورپی یونین نے ای ون منصوبے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل پر زور دیا ہے کہ وہ آبادکاری سے متعلق ٹینڈر واپس لے۔ یورپی مؤقف کے مطابق مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں آبادکاری کی سرگرمیاں خطے میں پائیدار امن کے لیے مشکلات پیدا کرسکتی ہیں۔
ای ون منصوبہ کیا ہے؟
ای ون منصوبہ مقبوضہ مشرقی بیت المقدس اور مغربی کنارے کے درمیان واقع علاقے سے متعلق ہے۔ اس منصوبے میں نئی رہائشی تعمیرات اور انفراسٹرکچر کی ترقی شامل ہے، جس پر فلسطینی حکام اور عالمی سطح پر مختلف حلقے طویل عرصے سے تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔
دو ریاستی حل پر خدشات
یورپی یونین کی جانب سے ای ون منصوبے پر اعتراض کی ایک بڑی وجہ اس کے ممکنہ سیاسی اثرات ہیں۔ ناقدین کے مطابق منصوبے پر پیش رفت سے مغربی کنارے کے مختلف علاقوں کے درمیان جغرافیائی رابطہ متاثر ہوسکتا ہے، جس سے مستقبل میں فلسطینی ریاست کے قیام اور دو ریاستی حل کے امکانات مزید پیچیدہ ہوسکتے ہیں۔
اسرائیل سے ٹینڈر منسوخ کرنے کا مطالبہ
یورپی یونین نے اسرائیلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ای ون منصوبے سے متعلق ٹینڈر منسوخ کیا جائے۔ یورپی مؤقف کے مطابق ایسے اقدامات سے گریز کرنا ضروری ہے جو خطے میں کشیدگی بڑھانے یا سیاسی حل کی راہ میں رکاوٹ بننے کا سبب بن سکتے ہیں۔
فلسطینی علاقوں میں تشویش
ای ون منصوبے پر پیش رفت فلسطینی حلقوں کے لیے بھی تشویش کا باعث ہے۔ فلسطینی حکام طویل عرصے سے اسرائیلی آبادکاری کی مخالفت کرتے آئے ہیں اور ان کا مؤقف ہے کہ ایسی سرگرمیاں فلسطینی علاقوں کی صورتحال کو مزید پیچیدہ کررہی ہیں۔
عالمی ردعمل مزید اہم ہوگیا
ای ون منصوبے پر یورپی یونین کا تازہ ردعمل اس معاملے کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے اس مطالبے پر کیا ردعمل سامنے آتا ہے اور منصوبے پر عملی پیش رفت کس حد تک جاری رہتی ہے، اس پر عالمی برادری کی نظریں مرکوز ہیں
مزید پڑھیں
یومیف کیجیلچا نے ہاف میراتھن کا عالمی ریکارڈ دوبارہ اپنے نام کرلیا










