مقبوضہ بیت المقدس کے قریب اسرائیل کا متنازع ای ون آبادکاری منصوبہ ایک بار پھر پیش رفت کی جانب بڑھ رہا ہے۔ اس منصوبے کو فلسطینی علاقوں کی جغرافیائی صورتحال اور مستقبل کے دو ریاستی حل کے حوالے سے اہم سمجھا جاتا ہے، جبکہ فلسطینی حکام اور مختلف عالمی حلقے اس پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے رہے ہیں۔
ای ون منصوبہ کیا ہے؟
ای ون منصوبہ مقبوضہ مشرقی بیت المقدس اور مقبوضہ مغربی کنارے کے درمیان واقع علاقے سے متعلق ہے۔ اس منصوبے میں نئی رہائشی آبادی اور دیگر تعمیرات کے ذریعے علاقے میں اسرائیلی آبادکاری کو وسعت دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔
فلسطینی علاقوں کے رابطے پر خدشات
فلسطینی حکام کے مطابق ای ون منصوبے کی تکمیل سے مغربی کنارے کے شمالی اور جنوبی حصوں کے درمیان رابطہ متاثر ہوسکتا ہے۔ اس صورتحال سے مستقبل میں فلسطینی ریاست کے قیام کے امکانات بھی متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جاتا ہے۔
عالمی سطح پر منصوبے کی مخالفت
ای ون آبادکاری منصوبہ کئی برس سے عالمی سطح پر تنقید کا مرکز رہا ہے۔ مختلف ممالک اور عالمی اداروں کی جانب سے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی آبادکاری پر تحفظات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔
دو ریاستی حل کے لیے بڑا چیلنج
ماہرین کے مطابق ای ون منصوبے پر پیش رفت دو ریاستی حل کے لیے ایک اہم چیلنج بن سکتی ہے۔ فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے مسلسل جغرافیائی رابطہ ضروری سمجھا جاتا ہے، جبکہ اس منصوبے سے متعلق یہی پہلو سب سے زیادہ زیر بحث ہے۔
فلسطینیوں میں تشویش
منصوبے پر پیش رفت کی اطلاعات کے بعد فلسطینی حلقوں میں بھی تشویش پائی جاتی ہے۔ فلسطینی حکام کا مؤقف ہے کہ آبادکاری کے ایسے اقدامات ان کے علاقوں، حقوق اور مستقبل کے سیاسی حل کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔
عالمی برادری کی توجہ مرکوز
ای ون منصوبے کی پیش رفت نے ایک بار پھر عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں آبادکاری کے معاملے کی جانب مبذول کردی ہے۔ اس منصوبے کے سیاسی اور سفارتی اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہونے کا امکان ہے
مزید پڑھیں
میٹھے مشروبات کا روزانہ استعمال، معدے کے کینسر کے خطرے میں نمایاں اضافہ








