پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر کہا ہے کہ یہ مسئلہ کاروباری یا غیر متعلقہ فورمز پر زیر بحث آنے کے بجائے قومی اسمبلی میں پیش کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے اہم قومی معاملات پر پارلیمنٹ میں بحث اور اتفاق رائے کے ذریعے فیصلے ہونے چاہئیں۔
نئے صوبوں پر پارلیمانی بحث کا مطالبہ
بلاول بھٹو زرداری نے مؤقف اختیار کیا کہ نئے صوبوں کا معاملہ آئینی اور قومی نوعیت کا ہے، اس لیے اس پر قومی اسمبلی میں تفصیلی بحث ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق اہم فیصلے پارلیمانی طریقہ کار کے تحت ہی کیے جانے چاہئیں۔
کاروباری فورمز پر بحث پر اعتراض
پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ صوبوں کے قیام جیسے حساس معاملے کو کاروباری فورمز پر زیر بحث لانے کے بجائے سیاسی اور آئینی پلیٹ فارم پر لایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے معاملات میں تمام متعلقہ فریقین کو شامل کرنا ضروری ہے۔
اتفاق رائے کو اہم قرار دے دیا
بلاول بھٹو نے نئے صوبوں کے قیام کے لیے اتفاق رائے کو بنیادی اہمیت دی۔ ان کا کہنا ہے کہ جہاں عوام اور سیاسی جماعتوں میں اتفاق ہو، وہاں فیصلے مشاورت کے ذریعے آگے بڑھنے چاہئیں۔
آئینی طریقہ کار ضروری ہے
نئے صوبوں کے قیام کے لیے آئینی تقاضوں کو پورا کرنا ضروری ہے۔ اس معاملے میں پارلیمنٹ، صوبائی اسمبلیوں اور متعلقہ اداروں کا کردار اہم ہوتا ہے، اسی لیے بلاول بھٹو نے پارلیمانی بحث پر زور دیا ہے۔
پیپلز پارٹی کا مؤقف
بلاول بھٹو زرداری کے مطابق پیپلز پارٹی ہمیشہ جمہوری عمل اور مشاورت کی حامی رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی بڑے فیصلے کو اتفاق رائے اور عوامی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے آگے بڑھانا چاہیے۔
سیاسی حلقوں میں بحث تیز
نئے صوبوں کا معاملہ ایک بار پھر ملک میں سیاسی بحث کا موضوع بن گیا ہے۔ مختلف سیاسی جماعتیں اس حوالے سے اپنے اپنے مؤقف کا اظہار کر رہی ہیں، جبکہ بعض رہنما انتظامی بہتری کے لیے نئے صوبوں کی حمایت کرتے ہیں۔
قومی اسمبلی میں معاملہ اٹھانے پر زور
بلاول بھٹو کے بیان کے بعد یہ بات واضح ہے کہ پیپلز پارٹی نئے صوبوں کے معاملے کو پارلیمانی فورم پر زیر بحث لانے کی حامی ہے۔ ان کے مطابق قومی نوعیت کے فیصلے سیاسی مشاورت اور آئینی طریقہ کار کے مطابق ہونے چاہئیں۔
مزید پڑھیں
ایران نے امریکی آئل ٹینکروں پر تازہ حملوں کا جواب میزائل حملوں سے دے دیا: روسی میڈیا











