بیرسٹر گوہر کی تجویز
اسلام آباد میں سیاسی درجہ حرارت بڑھنے کے ساتھ چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے ہم خیال سیاسی جماعتوں کو متحد کرنے کے لیے ایک اہم تجویز پیش کی ہے، جس کے مطابق ایک مشترکہ کمیٹی تشکیل دی جائے جو سیاسی ہم آہنگی اور مکالمے کے عمل کو عملی شکل دے۔
سیاسی اتحاد کی ضرورت
بیرسٹر گوہر نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ ملک اور فوج دونوں ہمارے ہیں، ہم پہلے بھی ایک ساتھ کھڑے رہے ہیں اور مستقبل میں بھی ساتھ رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہاتھ ملاؤ تاکہ راستہ بنے، بات کرو تاکہ بات سے بات بنے اور موجودہ ملکی حالات جامع مذاکرات کا تقاضا کر رہے ہیں۔
مذاکرات، اصلاحات اور سیاسی کشیدگی
بیرسٹر گوہر نے واضح کیا کہ مذاکرات ہی مسائل کے حل کا راستہ ہیں اور کچھ عناصر ایسے ہیں جو اداروں اور پی ٹی آئی کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ سیاسی استحکام کے لیے باہمی رابطے اور مکالمہ وقت کی ضرورت ہے۔
خیبر پختونخوا حکومت کے تحفظات
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے شکوہ کیا کہ ایک صوبے کو تمام وسائل دیے جا رہے ہیں جبکہ خیبر پختونخوا کو اس کے جائز حقوق نہیں مل رہے۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کی کرپشن رپورٹ پر کوئی بات نہیں کی جا رہی اور وفاق ہمارے واجبات فوری ادا کرے۔
جمہوریت، آئین اور معیشت زیر بحث
پی ٹی آئی رہنما اسد قیصر نے کہا کہ ملک میں جمہوریت کا جنازہ نکال دیا گیا ہے اور اپوزیشن کی سیاسی آزادی محدود ہو چکی ہے۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ آئین پر عمل کیے بغیر ملک آگے نہیں بڑھ سکتا، معاشی استحکام کے بغیر ترقی ناممکن ہے، اس لیے آئین کی بحالی اور قانون کی بالادستی سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
مزید پڑھیں
عمران خان کا مذاکرات سے دوبارہ انکار، حکومت کا کہنا ہے معافی کے بغیر بات ممکن نہیں











