پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے، یہ لاہور اور کشمور نہیں بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پاکستان کی قومی پالیسی کا اہم حصہ ہے اور اس پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ قبول نہیں کیا جا سکتا۔ بیرسٹر گوہر نے اس بات پر زور دیا کہ کشمیر کے عوام کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حقِ خودارادیت ملنا چاہیے اور عالمی برادری کو اس مسئلے کے حل کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔
بیرسٹر گوہر کا مؤقف
اپنے خطاب میں بیرسٹر گوہر نے کہا کہ کشمیر کا معاملہ صرف ایک خطے کا مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان کے لیے قومی اہمیت کا حامل ہے۔ ان کے مطابق پاکستان نے ہمیشہ سفارتی اور اخلاقی سطح پر کشمیری عوام کی حمایت کی ہے اور یہ حمایت آئندہ بھی جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر خطے میں دیرپا امن کا قیام ممکن نہیں۔
مسئلہ کشمیر پر زور
بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ پاکستان کا مؤقف ہمیشہ واضح رہا ہے کہ کشمیر ایک متنازع مسئلہ ہے، جس کا حل کشمیری عوام کی خواہشات اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہونا چاہیے۔ انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔
قومی اتحاد کی ضرورت
انہوں نے کہا کہ کشمیر جیسے قومی معاملات پر تمام سیاسی جماعتوں کو اختلافات سے بالاتر ہو کر ایک مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق قومی اتحاد ہی پاکستان کے مؤقف کو عالمی سطح پر مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔
سیاسی حلقوں کا ردعمل
بیرسٹر گوہر کے بیان کے بعد مختلف سیاسی حلقوں میں اس پر تبصرے جاری ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ ہمیشہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اور قومی سیاست میں اہم مقام رکھتا ہے، جس پر مختلف سیاسی جماعتیں وقتاً فوقتاً اپنے خیالات کا اظہار کرتی رہتی ہیں۔
مسئلہ کشمیر کی اہمیت
ماہرین کے مطابق مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیا کے اہم ترین تنازعات میں شامل ہے، جس کے حل کے لیے مختلف مواقع پر سفارتی کوششیں اور مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا جاتا رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ خطے میں پائیدار امن کے لیے تمام فریقین کو بات چیت اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق آگے بڑھنا ہوگا۔
نتیجہ
بیرسٹر گوہر نے اپنے بیان میں کہا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور اس مسئلے پر قومی مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آ سکتی۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ کشمیری عوام کو ان کا بنیادی حق دلانے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں، جبکہ قومی سطح پر اتحاد اور یکجہتی کو فروغ دیا جائے۔
مزید پڑھیں
امریکی وفد کا بیان، ٹرمپ اور پاکستانی قیادت کے مضبوط تعلقات سودمند ثابت ہو رہے ہیں










