وفاقی حکومت نے اسلام آباد میں سکیورٹی انتظامات مزید سخت کرنے کے لیے صوبوں سے اضافی پولیس نفری طلب کرلی ہے۔ تازہ رپورٹس کے مطابق پنجاب، سندھ اور بلوچستان سے مجموعی طور پر 23 ہزار 500 پولیس اہلکار مانگے گئے ہیں۔ یہ درخواست وفاقی دارالحکومت میں ممکنہ سیاسی احتجاج اور امن و امان کی صورتحال کے پیش نظر کی گئی ہے۔
صوبائی حکومتوں کو خطوط ارسال
رپورٹس کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے متعلقہ صوبائی حکومتوں کو پولیس نفری کی فراہمی کے لیے خطوط ارسال کیے گئے ہیں۔ اضافی نفری کا مقصد اسلام آباد میں سکیورٹی کے انتظامات کو مزید مؤثر بنانا اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے انتظامیہ کی استعداد بڑھانا ہے۔
پنجاب سے بڑی تعداد میں اہلکار طلب
ذرائع کے مطابق مطلوبہ پولیس نفری میں سب سے بڑا حصہ پنجاب سے مانگا گیا ہے، جبکہ سندھ اور بلوچستان سے بھی اہلکار طلب کیے گئے ہیں۔ مجموعی طور پر ساڑھے 23 ہزار کے قریب پولیس اہلکار اسلام آباد میں سکیورٹی ڈیوٹی کے لیے فراہم کیے جانے کی درخواست کی گئی ہے۔
پی ٹی آئی کے احتجاج کا معاملہ
یہ سکیورٹی انتظامات پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے 27 ستمبر کو اسلام آباد میں احتجاج کی کال کے تناظر میں سامنے آئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق وفاقی حکومت نے ممکنہ احتجاج کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پہلے ہی اضافی نفری کا انتظام شروع کردیا ہے۔
اسلام آباد میں سکیورٹی مزید سخت ہونے کا امکان
اضافی پولیس نفری کی طلب کے بعد وفاقی دارالحکومت میں سکیورٹی اقدامات مزید سخت کیے جانے کا امکان ہے۔ انتظامیہ کی کوشش ہے کہ اہم سرکاری عمارتوں، حساس مقامات اور شہری علاقوں میں امن و امان برقرار رکھا جائے اور کسی بھی غیر معمولی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔
حکومت کا مؤقف
وفاقی حکومت کی جانب سے اضافی پولیس نفری طلب کرنے کا بنیادی مقصد اسلام آباد میں امن و امان برقرار رکھنا اور شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا بتایا گیا ہے۔ آنے والے دنوں میں صوبوں کی جانب سے پولیس نفری کی فراہمی اور وفاقی دارالحکومت میں تعیناتی سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنے کی توقع ہے۔
مزید پڑھیں
طلال چوہدری: بھارت سفارتی و عسکری شکست کے بعد اسپورٹس کلچر کو بھی نقصان پہنچا رہا ہے










