اگر استعفے سے کراچی بچتا ہے تو ابھی چھوڑنے کو تیار ہوں، مصطفیٰ کمال بالائی علاقوں میں برف کا قہر، رابطہ سڑکوں کی بندش، 2 افراد جاں بحق لاہور میں لٹکتی تاروں اور اوورلوڈ کیبلز کے مسئلے پر کمیٹی قائم
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

بھاری ٹیکس اور استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد سے مقامی آٹو انڈسٹری تباہی کے قریب

Pakistan auto industry facing crisis due to high tax and used car imports

بھاری ٹیکس اور استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد

پاکستان کی مقامی آٹو انڈسٹری اس وقت شدید دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔ بھاری ٹیکس، درآمدی پالیسیوں میں عدم توازن اور استعمال شدہ گاڑیوں کی بے لگام درآمد نے اس اہم صنعتی شعبے کو مشکلات کی گہری دلدل میں دھکیل دیا ہے۔

ملکی معیشت میں آٹو انڈسٹری کی اہمیت

یہ شعبہ نہ صرف ملکی جی ڈی پی میں دو فیصد حصہ ڈالتا ہے بلکہ ہر سال بیرونِ ملک کام کرنے والے تربیت یافتہ پاکستانی ٹیکنیشنز کی بدولت چھ سو ملین ڈالر سے زائد زرمبادلہ بھی ملک بھیجتا ہے۔ مالی سال دو ہزار پچیس میں انڈسٹری نے سات سو ارب روپے سے زیادہ کے ٹیکس ادا کیے، جو اس کی اہمیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

پیداوار اور ورک فورس پر اثرات

اسمبلی لائنوں پر ٹھہرتی ہوئی روبوٹکس، سست روی کا شکار پروڈکشن اور کم ہوتی ہوئی ورک فورس اس بحران کی کھلی تصویر پیش کرتی ہے۔ صنعتیں کہتی ہیں کہ اگر حکومت ٹیکس کو معقول سطح پر لے آئے اور استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمدات کو منظم کرے تو پیداوار بحال ہو سکتی ہے اور لاکھوں خاندانوں کا روزگار بھی محفوظ بنایا جا سکتا ہے۔

استعمال شدہ گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی درآمد

پاکستان اب ایشیا کا واحد آٹو مینوفیکچرنگ ملک بن گیا ہے جہاں استعمال شدہ گاڑیاں مارکیٹ میں نمایاں حصہ رکھتی ہیں۔ دسمبر دو ہزار چوبیس سے دسمبر دو ہزار پچیس کے درمیان یہ حصہ مقامی فروخت کا تقریباً پچیس فیصد رہا۔ خطے کے دیگر ممالک میں یہ شرح بہت کم ہے بھارت: تقریباً صفر ویتنام: صفر اعشاریہ تین فیصد تھائی لینڈ: ایک اعشاریہ دو فیصد صنعتی ماہرین کہتے ہیں کہ وزارتِ تجارت کے تیس ستمبر دو ہزار پچیس کے نوٹیفکیشن کے بعد پانچ سال تک پرانی گاڑیوں کی درآمد کی اجازت دی گئی، جس سے مقامی صنعت پر منفی اثر پڑا۔

مقامی انڈسٹری کے چیلنجز

پاکستان کا آٹو سیکٹر تقریباً بارہ سو فیکٹریوں پر مشتمل ہے، پچیس لاکھ سے زائد لوگوں کو روزگار دیتا ہے اور حکومت کو سالانہ تقریباً پانچ سو ارب روپے ریونیو فراہم کرتا ہے۔ سینئر نائب چیئرمین شہریار قادر کے مطابق درآمد دوست پالیسیاں مقامی صنعت کے حاصل شدہ فوائد کو کمزور کر رہی ہیں۔ صنعتی تخمینوں کے مطابق مقامی آٹو وینڈر انڈسٹری کو تقریباً پچاس ارب روپے کا نقصان ہوا، اور مقامی مینوفیکچررز فی گاڑی تقریباً دس ہزار ایک سو اٹھہتر ڈالر کی دستاویزی بینکنگ امپورٹس کرتے ہیں، جبکہ درآمد شدہ گاڑی پر تقریباً چودہ ہزار دس ڈالر خرچ ہوتا ہے۔

نئی آٹو پالیسی اور مستقبل کے اقدامات

وزارتِ صنعت و پیداوار کے حکام کے مطابق: استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد پر ریگولیشن سخت کی جا رہی ہے درآمد شدہ گاڑی کی فروخت کی میعاد مقرر کی جا رہی ہے اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے نئی آٹو پالیسی تیار ہو چکی ہے پالیسی میں ٹیکسیشن، ٹیرف اور دیگر مسائل حل کیے جائیں گے حکام کا کہنا ہے کہ نئی آٹو پالیسی سے ملک میں آٹو انڈسٹری کو فروغ ملے گا اور مقامی مینوفیکچررز کے مسائل حل ہوں گے، جس سے اربوں ڈالر کی نئی سرمایہ کاری اور روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
مزید پڑھیں
ڈرائیونگ لائسنس کیلئے عمر کم کر دی گئی، پنجاب حکومت کا فیصلہ

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

:متعلقہ مضامین