اپوزیشن اتحاد کی قیادت میں تبدیلی کا امکان
اسلام آباد کی سیاسی صورتحال میں ایک اہم پیشرفت سامنے آئی ہے جہاں اطلاعات کے مطابق تحریک تحفظِ آئین کی سربراہی سے محمود خان اچکزئی کو ہٹا کر مولانا فضل الرحمان کو اتحاد کا نیا سربراہ بنایا جا سکتا ہے۔ اپوزیشن اتحاد کے اندر یہ تبدیلی مستقبل کی سیاسی حکمتِ عملی پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
قیادت کی تبدیلی پر غور
ذرائع کے مطابق قومی اسمبلی میں بطور اپوزیشن لیڈر نامزدگی کے بعد محمود خان اچکزئی کی سربراہی پر اپوزیشن اتحاد میں دوبارہ غور شروع ہو گیا ہے۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ اتحاد کو ایک مضبوط اور مشترکہ بیانیہ درکار ہے، جس کے لیے قیادت کی تبدیلی زیرِ غور ہے۔
حکومت کا اعتراض اور خط
دوسری جانب حکومت نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے طور پر محمود خان اچکزئی کے نام پر اعتراض اٹھایا ہے۔ حکومتی چیف وہپ عامر ڈوگر نے اس معاملے پر پی ٹی آئی کی قیادت کو باقاعدہ خط لکھ کر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
پی ٹی آئی کا مؤقف برقرار
باوثوق ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے حکومتی اعتراضات مسترد کرتے ہوئے واضح کر دیا ہے کہ اپوزیشن لیڈر کے لیے محمود خان اچکزئی ہی ان کا حتمی نام ہے۔ پی ٹی آئی کے بیان میں کہا گیا کہ قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کے لیے یہی نام فائنل ہے اور کسی تبدیلی پر غور نہیں کیا جا رہا۔
متبادل قیادت کے امکانات
باوجود اس کے کہ پی ٹی آئی اچکزئی کے نام پر قائم ہے، اپوزیشن اتحاد کے اندر ذرائع یہ بتا رہے ہیں کہ مولانا فضل الرحمان کو نیا سربراہ بنانے پر مشاورت جاری ہے۔ بطور مضبوط سیاسی شخصیت، فضل الرحمان کی قیادت اپوزیشن کو وسیع تر حمایت فراہم کر سکتی ہے۔
سیاسی منظرنامے پر اثرات
اگر اتحاد کی سربراہی میں تبدیلی کی گئی تو اس کے پارلیمانی سیاست پر دور رس اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ مستقبل قریب میں اپوزیشن کی حکمتِ عملی، پارلیمانی مذاکرات اور حکومت کے ساتھ تعلقات اس تبدیلی سے متاثر ہوں گے۔
مزید پڑھیں
فیصلآباد میں کیمیکل فیکٹری کا بوائلر پھٹ گیا، 6 افراد جاں بحق، 10 زخمی











