لاہور مین ہول حادثہ: جاں بحق ماں بیٹی کی نمازِ جنازہ آج، میتیں آبائی گاؤں پہنچ گئیں پاک افغان سرحد کی بندش سے پختونخوا کو 7 ماہ میں 4 ارب روپے کا بھاری نقصان اڈیالہ جیل کا قیدی سزا مکمل کیے بغیر رہا نہیں ہوگا، فیصل کریم کنڈی بھاٹی گیٹ واقعہ: وزیراطلاعات پنجاب نے متاثرہ خاندان سے معافی مانگ لی
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

خلا سے غیر متوقع سگنل، سائنسدان حیران و پریشان

ASKAP J1832-0911 space signals detected by Australian telescope

خلا سے موصول ہونے والے پر اسرار سگنلز اور ان کا راز

خلا کی اتھاہ گہریائیوں سے موصول ہونے والے مسلسل اور پر اسرار سگنلز نے سائنس دانوں کو دنگ کر دیا ہے۔ سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ خلائی مظہر کی یہ نئی قسم جائزے کے بعد مزید پر اسرار ہوگئی ہے۔

ASKAP J1832-0911: ایک پراسرار جرم فلکی

ASKAP J1832-0911 نامی ایک جرم فلکی زمین سے 15 ہزار نوری سال کے فاصلے پر موجود ہے اور ہر 44 منٹ کے وقفے سے دو منٹ تک مسلسل ریڈیو لہریں اور ایکس ریز بھیجتا ہے۔

دریافت اور مشاہدہ

خلا کے ایک مخصوص حصے سے آتے ان ریڈیو سگنلز کی نشان دہی ایک آسٹریلوی ٹیلی اسکوپ نے کی تھی۔ اتفاقاً ناسا کی چندرا ایکس رے تجربہ گاہ بھی خلا کے اس حصے کا مشاہدہ کر رہی تھی، جس میں اس شے کے ایکس ریز اور ریڈیو پلسز خارج کرنے کے متعلق معلوم ہوا۔

نئی طبعیات یا ایک نیا اجرام فلکی؟

یہ پہلی بار ہے کہ ایل پی ٹی نامی پر اسرار اشیاء میں سے ایک کی ایکس ریز اور ریڈیو سگنلز بھیجنے کی نشان دہی کی گئی ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ یہ شے کچھ ایسی نہیں ہے جس کا پہلے کبھی مشاہدہ ہوا ہو اور یہ ممکنہ طور پر کوئی نئی قسم کی شے یا نئی قسم کی طبعیات (فزکس) ہو۔

ایل پی ٹیز کا تعارف

ایل پی ٹیز (لانگ-پیریڈ ٹرانزیئنٹ) سب سے پہلے 2022 میں دریافت ہوئے تھے اور اس کے بعد سے محققین 10 ایل پی ٹیز دریافت کر چکے ہیں۔ یہ اجرام منٹوں یا گھنٹوں کے وقفوں سے ریڈیو پلسز کی مسلسل پوچھاڑ کرتے رہتے ہیں۔

مزید پڑھیں

ڈپریشن کے جسمانی اثرات: ایک خاموش خطرہ

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

مقبول پوسٹس

اشتہار

بلیک فرائیڈے

سماجی اشتراک

Facebook
Twitter
LinkedIn
Pinterest
WhatsApp

:متعلقہ مضامین