برطانیہ کے دو بڑے ہوائی اڈوں لندن ہیتھرو اور برمنگھم ایئرپورٹ کو بم سے اڑانے کی دھمکیاں موصول ہونے کے بعد یورپ بھر میں فضائی سکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی۔ اسی دوران یورپ کے مختلف ممالک میں متعدد مسافر پروازوں کو بم کی دھمکیاں ملنے کے باعث ان کا رخ تبدیل کرنا پڑا، جبکہ کچھ طیاروں کو ہنگامی طور پر دوسرے ہوائی اڈوں پر اتارا گیا۔
برطانوی میڈیا کے مطابق 5 نومبر 2026 کو ہیتھرو اور برمنگھم ایئرپورٹس کو موصول ہونے والی دھمکیوں کو ابتدائی جائزے میں قابلِ اعتبار نہیں سمجھا گیا، تاہم پولیس اور متعلقہ سکیورٹی اداروں نے احتیاطی اقدامات کیے۔ دونوں ہوائی اڈوں پر پروازوں کا معمول کا آپریشن جاری رہا۔
ہیتھرو اور برمنگھم ایئرپورٹس کو دھمکیاں موصول
برطانوی میڈیا رپورٹس کے مطابق لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ اور برمنگھم ایئرپورٹ کو بم سے اڑانے کی دھمکیاں موصول ہوئیں۔
ہیتھرو ایئرپورٹ کی انتظامیہ نے ابتدائی جائزے میں دھمکیوں کو غیر معتبر قرار دیا، جبکہ برمنگھم ایئرپورٹ کے ترجمان کے مطابق ہنگامی سکیورٹی طریقہ کار فوری طور پر نافذ کردیا گیا اور ایمرجنسی سروسز سے رابطہ کیا گیا۔
برطانوی پولیس کا ایوی ایشن یونٹ بھی صورتِ حال کی نگرانی کرتا رہا۔ حکام کے مطابق دونوں ہوائی اڈوں پر معمول کی سرگرمیاں جاری رہیں۔
یورپ بھر میں متعدد پروازوں کو بم کی دھمکیاں
رپورٹس کے مطابق برطانیہ کے ہوائی اڈوں کو دھمکیاں ملنے کے علاوہ یورپ کے مختلف ممالک میں مسافر طیاروں کو بھی بم کی اطلاعات موصول ہوئیں۔
ان واقعات میں ریان ایئر، وِز ایئر، فن ایئر، ایئر لِنگس اور دیگر فضائی کمپنیوں کی پروازیں متاثر ہوئیں۔ مختلف ممالک میں سکیورٹی اداروں نے طیاروں کی تلاشی لی
اور بعض پروازوں کو متبادل ہوائی اڈوں کی جانب موڑ دیا گیا۔
ڈبلن سے روم جانے والی پرواز فرانس میں اتار دی گئی
آئرلینڈ کے شہر ڈبلن سے اٹلی کے دارالحکومت روم جانے والی ایئر لِنگس کی پرواز کو بم کی مشتبہ دھمکی کے بعد فرانس کے فوجی اڈے کی جانب موڑ دیا گیا۔
ایئربس اے 320 طیارے میں 151 مسافر اور عملے کے 6 ارکان سوار تھے۔ طیارہ فرانس کے علاقے نارمنڈی میں ایورے فوجی اڈے پر بحفاظت اتار لیا گیا، جہاں بم ڈسپوزل ٹیموں نے تلاشی کا عمل شروع کیا۔
حکام کے مطابق مسافروں اور عملے کو محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا، جبکہ ابتدائی تلاشی میں کسی دھماکا خیز مواد کی موجودگی کی تصدیق نہیں ہوئی۔
لندن سے صوفیہ جانے والی پرواز کا رخ بھی موڑ دیا گیا
برطانوی دارالحکومت لندن کے اسٹینسٹیڈ ایئرپورٹ سے بلغاریہ کے دارالحکومت صوفیہ جانے والی ریان ایئر کی پرواز کو بھی سکیورٹی الرٹ کے بعد متبادل ہوائی اڈے پر اتارا گیا۔
بلغاریہ کے شہر پلوودیو میں طیارے کی بحفاظت لینڈنگ کے بعد متعلقہ حکام نے سکیورٹی معائنہ کیا۔ اس کے علاوہ یورپ کے دیگر فضائی راستوں پر بھی جنگ
طیاروں کو بعض مسافر طیاروں کی نگرانی اور حفاظت کے لیے روانہ کیا گیا۔
برطانوی حکومت نے دھمکیوں کو شرارت پر مبنی قرار دیا
برطانوی وزیر ٹرانسپورٹ ہیڈی الیگزینڈر نے کہا کہ حکومت فضائی سکیورٹی سے متعلق واقعات سے آگاہ ہے اور حکام ان دھمکیوں سے نمٹنے کے لیے طے شدہ طریقہ کار پر عمل کررہے ہیں۔
حکومتی ترجمان کے مطابق برطانیہ میں ممکنہ خطرات اور جعلی دھمکیوں سے نمٹنے کے لیے مضبوط سکیورٹی نظام موجود ہے۔ حکام نے دھمکیوں کو سنجیدگی سے
لیتے ہوئے تحقیقات اور نگرانی جاری رکھی۔
یورپ میں فضائی سکیورٹی خدشات بڑھ گئے
یورپ میں چند روز کے دوران متعدد پروازوں کو بم کی دھمکیاں ملنے کے واقعات نے فضائی سکیورٹی سے متعلق خدشات بڑھا دیے ہیں۔ 3 نومبر کو بھی کم از کم 7 پروازوں اور ایک کروز شپ کو مشتبہ دھمکیاں موصول ہوئی تھیں۔
تاحال ان واقعات کی ذمہ داری کسی گروہ یا ملک نے قبول نہیں کی۔ حکام اور سکیورٹی ادارے ان دھمکیوں کے ذرائع اور ممکنہ روابط کی تحقیقات کررہے ہیں۔
مزید پڑھیں
ایندھن کی قیمتوں میں کمی کا اثر، گڈز ٹرانسپورٹرز نے کرائے کم کردیے








