اسرائیل میں 90 فیصد ووٹ گن لیے گئے، نیتن یاہو کے اتحاد کو اکثریت نہ مل سکی ملتان میں گھر میں آتشزدگی، خاتون اور 2 بیٹیاں جھلس کر جاں بحق
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مشترکہ دفاعی معاہدے کی ترک پارلیمنٹ سے منظوری

pakistan-saudi-turkey-joint-defence-agreement.webp

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدے کو ترکیہ کی پارلیمنٹ نے بھی منظور کرلیا ہے، جس کے بعد تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون
اور اجتماعی سلامتی کے معاہدے پر عمل درآمد کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق ترک پارلیمنٹ نے 6 نومبر 2026 کو معاہدے کی توثیق کے بل کو 279 ووٹوں کی حمایت اور 119 مخالفت کے ساتھ منظور کیا۔ یہ معاہدہ تینوں ممالک کے درمیان دفاعی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جارہا ہے۔

مکہ میں تینوں ممالک نے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے 7 اگست 2026 کو مکہ مکرمہ میں منعقدہ سہ فریقی سربراہی اجلاس کے دوران مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور ترک صدر رجب طیب اردوان نے معاہدے پر دستخط کیے۔ معاہدے کا بنیادی مقصد تینوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون، اجتماعی سلامتی اور مشترکہ دفاعی صلاحیتوں کو فروغ دینا ہے۔

ایک ملک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا

معاہدے کی اہم شق کے مطابق کسی ایک ملک پر بیرونی مسلح حملے کو تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس شق کے تحت تینوں ممالک اجتماعی دفاع اور سلامتی کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں گے۔
معاہدے میں دفاعی تعاون کے علاوہ دہشتگردی کے خلاف مشترکہ اقدامات، انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ، فوجی مشقیں اور دفاعی صنعت میں تعاون بھی شامل ہے۔

ترک پارلیمنٹ میں 279 ارکان نے حمایت کی

ترکیہ کی گرینڈ نیشنل اسمبلی میں مشترکہ دفاعی معاہدے کی منظوری کے لیے ہونے والی ووٹنگ میں 279 ارکان نے بل کے حق میں ووٹ دیا، جبکہ 119 ارکان نے مخالفت کی۔
پارلیمانی بحث کے دوران حکومتی جماعت کے رکن ضیا آلتونیالڈز نے کہا کہ معاہدے کا بنیادی مقصد خطے میں سلامتی کے تعاون کو فروغ دینا اور تنازعات کو بڑھانے
کے بجائے روکنا ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن ارکان نے معاہدے کے دائرہ کار اور نگرانی کے طریقہ کار سے متعلق تحفظات بھی پیش کیے۔

پاکستان اور سعودی عرب پہلے ہی معاہدے کی توثیق کرچکے

پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب اپنے اپنے قانونی طریقہ کار کے تحت معاہدے کی توثیق مکمل کرچکے تھے، جبکہ ترکیہ میں پارلیمانی منظوری کا عمل جاری تھا۔

ترک پارلیمنٹ کی منظوری کے بعد معاہدے کے مکمل نفاذ کے لیے متعلقہ ممالک کی جانب سے توثیقی دستاویزات جمع کرانے کا مرحلہ اہم ہوگا۔ معاہدے کی سیکریٹریٹ
سعودی عرب میں قائم کی جائے گی۔

معاہدے کے تحت ترک فوج کی تعیناتی خودکار نہیں ہوگی

دفاعی معاہدے کی منظوری کا مطلب یہ نہیں کہ ترکیہ کی فوج خودبخود پاکستان یا سعودی عرب میں تعینات کردی جائے گی۔ کسی بھی فوجی تعیناتی یا بیرون ملک فوجی کارروائی کے لیے متعلقہ قانونی اور پارلیمانی اجازت درکار ہوگی۔

ترک حکام کے مطابق معاہدے کا بنیادی مقصد مشترکہ دفاع، دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ اور خطے میں امن و استحکام کو فروغ دینا ہے۔

تینوں ممالک کے دفاعی تعلقات میں اہم پیش رفت

پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے میں دفاعی تعاون کے ایک نئے مرحلے کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کے تحت تینوں ممالک فوجی تربیت، انٹیلی جنس تعاون، دفاعی ٹیکنالوجی اور دفاعی صنعت میں شراکت داری کو مزید فروغ دے سکتے ہیں۔

ترک پارلیمنٹ کی منظوری کے بعد اب توجہ معاہدے کے عملی نفاذ اور تینوں ممالک کے درمیان مشترکہ دفاعی تعاون کے آئندہ اقدامات پر مرکوز ہوگی
مزید پڑھیں
پاکپتن میں بس اور ٹریلر کے درمیان المناک حادثہ، 11 مسافر زندگی کی بازی ہار گئے

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

:متعلقہ مضامین