سندھ میں ایم بی بی ایس میں داخلوں کے لیے انٹرمیڈیٹ پری میڈیکل کے نمبروں میں مبینہ ردوبدل کا بڑا معاملہ سامنے آگیا ہے، جس نے صوبے کے میڈیکل کالجز میں داخلوں کے میرٹ اور شفافیت پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق سندھ کی دو بڑی سرکاری میڈیکل جامعات نے امیدواروں کی جانب سے جمع کرائی گئی کم از کم 50 مشکوک مارک شیٹس کی نشاندہی کی ہے۔ ان دستاویزات میں درج نمبروں اور متعلقہ تعلیمی بورڈ کے سرکاری گزٹ میں موجود نمبروں کے درمیان نمایاں فرق پایا گیا ہے۔
دو میڈیکل جامعات میں مشکوک مارک شیٹس کی نشاندہی
رپورٹ کے مطابق لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز جامشورو نے 43 مشکوک مارک شیٹس کی نشاندہی کی، جبکہ جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کراچی میں بھی 7 ایسی دستاویزات سامنے آئیں۔
یہ مارک شیٹس مبینہ طور پر حیدرآباد بورڈ کے تحت انٹرمیڈیٹ پری میڈیکل کے سالانہ امتحانات 2026 میں شریک امیدواروں سے متعلق ہیں۔ جامعات کی جانب سے داخلہ دستاویزات کی جانچ پڑتال کے دوران نمبروں میں فرق سامنے آیا۔
بعض امیدواروں کے نمبروں میں 50 سے 100 تک اضافہ
ذرائع کے مطابق بعض امیدواروں کے نمبروں میں اسکروٹنی کے نام پر مبینہ طور پر 50 سے 100 تک اضافہ کیا گیا۔ اس اضافے کے باعث میڈیکل کالجز کی میرٹ لسٹ میں امیدواروں کی پوزیشن تبدیل ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے۔
تعلیمی قواعد کے مطابق اسکروٹنی کا مقصد نمبروں کی گنتی اور اندراج کی غلطیوں کی جانچ کرنا ہوتا ہے، جبکہ پہلے سے جانچے گئے جوابات کی دوبارہ مارکنگ اس عمل کا معمول کا حصہ نہیں ہوتی۔ اسی لیے نمبروں میں غیر معمولی اضافے پر تحقیقات کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔
حیدرآباد بورڈ کے حکام بھی زیرِ سوال
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مبینہ اسکروٹنی کا عمل حیدرآباد بورڈ کے چیئرمین فقیر محمد لاکھی کی عمرے کے لیے بیرون ملک موجودگی کے دوران کیا گیا۔ اس صورتحال نے یہ سوالات پیدا کیے ہیں کہ نمبروں میں تبدیلی کی اجازت کس نے دی اور درخواستوں پر کارروائی کن افسران نے کی۔
ذرائع کے مطابق حیدرآباد بورڈ کے نتائج میں مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملے پر ٹاپ سیکریٹ برانچ کے ڈپٹی کنٹرولر امتحانات اعجاز علی کاکا کو بھی معطل کیا جاچکا ہے۔ تاہم، ان الزامات کی مکمل تصدیق اور ذمہ داران کا تعین تحقیقات کے بعد ہی ممکن ہوگا۔
میرپورخاص بورڈ کی مارک شیٹس بھی شک کے دائرے میں
رپورٹ کے مطابق میرپورخاص تعلیمی بورڈ کی جانب سے جاری کردہ بعض مارک شیٹس میں بھی ممکنہ ردوبدل کے خدشات ظاہر کیے گئے ہیں۔ میڈیکل جامعات کی جانب سے امیدواروں کے نمبروں کی تصدیق کے لیے اصل امتحانی گزٹ طلب کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اصل گزٹ اور نظرثانی کے بعد جاری کردہ مارک شیٹس کا موازنہ کرنے سے مزید مشکوک معاملات سامنے آسکتے ہیں۔
طلبہ کے میرٹ اور مستقبل پر اثرات کا خدشہ
میڈیکل کالجز میں داخلوں کے لیے میرٹ انتہائی اہمیت رکھتا ہے، جہاں بعض اوقات ایک نمبر بھی امیدوار کی پوزیشن تبدیل کرسکتا ہے۔ اگر کسی امیدوار کے نمبروں میں غیر قانونی طور پر اضافہ کیا گیا ہو تو اس سے میرٹ پر آنے والے دوسرے طلبہ کے داخلے کے مواقع متاثر ہوسکتے ہیں۔
تعلیمی ماہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ سندھ حکومت حیدرآباد اور میرپورخاص بورڈ کے نتائج، اسکروٹنی درخواستوں اور نظرثانی شدہ مارک شیٹس کا آزادانہ فرانزک آڈٹ کرائے۔ ان کے مطابق مشکوک دستاویزات کی تصدیق ہونے تک متعلقہ داخلوں کے حتمی فیصلے روکنے پر بھی غور کیا جانا چاہیے۔
شفاف تحقیقات اور ذمہ داروں کے تعین کا مطالبہ
اس معاملے نے سندھ کے تعلیمی بورڈز اور میڈیکل داخلوں کے نظام کی شفافیت سے متعلق خدشات کو بڑھا دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق اصل گزٹ، کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ، اسکروٹنی درخواستوں اور داخلہ دستاویزات کا تفصیلی جائزہ لینا ضروری ہے۔
اب اہم سوال یہ ہے کہ آیا صوبائی حکومت اس معاملے کی جامع تحقیقات کرائے گی اور اگر نمبروں میں غیر قانونی ردوبدل ثابت ہوا تو ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کی جائے گی یا نہیں۔
مزید پڑھیں
ایران پر حملہ امریکا کے لیے فتح نہیں بلکہ شکست کا باعث بنے گا: ایرانی وزارت خارجہ











