اسرائیل میں 90 فیصد ووٹ گن لیے گئے، نیتن یاہو کے اتحاد کو اکثریت نہ مل سکی ملتان میں گھر میں آتشزدگی، خاتون اور 2 بیٹیاں جھلس کر جاں بحق
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

ایران پر حملہ امریکا کے لیے فتح نہیں بلکہ شکست کا باعث بنے گا: ایرانی وزارت خارجہ

iran-foreign-ministry-us-attack-warning.webp

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکا کو خبردار کیا ہے کہ ایران پر حملہ واشنگٹن کے لیے فتح نہیں بلکہ شکست کا باعث بنے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی حکام نے ایران کی صلاحیتوں، قومی عزم اور عوام کی مزاحمت کو سمجھنے میں غلطی کی ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے 4 نومبر 2026 کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ میں کیے گئے اندازے اور حکمت عملی ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے اپنی موجودہ پالیسی جاری رکھی تو اسے مزید سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

امریکا کو اپنی غلطیوں کا احساس کرنا چاہیے: اسماعیل بقائی

 

اسماعیل بقائی نے اپنے بیان میں امریکی حکام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے بارے میں ان کے اندازے درست ثابت نہیں ہوئے اور انہوں نے ایرانی قوم کے عزم اور مزاحمت کو کم سمجھا۔

ان کے مطابق امریکا نے ایران کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے کئی اسٹریٹجک غلطیاں کیں، جن کے نتائج اب سامنے آرہے ہیں۔ بقائی نے امریکی حکام کو خبردار کیا کہ حقائق کو نظر انداز کرنے اور اسی پالیسی پر قائم رہنے سے صورتِ حال مزید خراب ہوسکتی ہے۔

ایران پر حملہ شکست کا سبب بنے گا، ایرانی ترجمان

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے واضح الفاظ میں کہا کہ ایران پر حملہ کرنے سے امریکا کو کامیابی حاصل نہیں ہوگی بلکہ اسے شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انہوں نے کہا کہ ایران ایسا ملک نہیں جسے دھمکیوں سے خوفزدہ کیا جاسکے یا فوجی کارروائی کے ذریعے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا جاسکے۔ ان کے مطابق ایران اپنی خودمختاری اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔

امریکی عوام نے اپنی حکومت کو واضح پیغام دے دیا: بقائی

اسماعیل بقائی نے امریکی وسط مدتی انتخابات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکی عوام نے اپنی حکومت کو واضح پیغام دیا ہے۔

ان کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائی اور جنگ کے معاشی و سیاسی اثرات امریکی انتخابی بحث کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ امریکی وسط مدتی انتخابات کے نتائج کے بعد ایران کے حکام نے بھی واشنگٹن کی پالیسیوں پر تنقید کی ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی برقرار

امریکا اور ایران کے درمیان فوجی کشیدگی کے ساتھ سفارتی رابطے بھی جاری ہیں۔ حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز کے قریب ایرانی اہداف پر امریکی حملوں کی اطلاعات سامنے آئی تھیں، جنہیں امریکی حکام نے محدود اور دفاعی کارروائی قرار دیا تھا۔

دوسری جانب ایرانی حکام نے امریکی کارروائیوں پر ردعمل کا حق محفوظ رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات اور جنگ بندی سے متعلق کوششوں کے باوجود اختلافات برقرار ہیں۔

خطے کی صورتِ حال پر عالمی توجہ

ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کے باعث مشرقِ وسطیٰ کی سکیورٹی صورتِ حال مسلسل عالمی توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔ خصوصاً آبنائے ہرمز میں فوجی سرگرمیاں عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل کے حوالے سے اہمیت رکھتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان مزید فوجی تصادم کے بجائے سفارتی حل کی کوششیں خطے میں کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہیں۔ تاہم، مذاکرات کی کامیابی اور آئندہ پیش رفت کا انحصار دونوں ممالک کے فیصلوں پر ہوگا۔
مزید پڑھیں
امریکی وسط مدتی انتخابات میں ٹرمپ کی جماعت کی شکست، سوشل میڈیا پر میمز کی بھرمار

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

:متعلقہ مضامین