لیاقت آباد میں خاتون پر تیزاب حملہ، پولیس نے شوہر سمیت 2 ملزمان کو گرفتار کرلیا نئے انتظامی یونٹس کا مطالبہ، ایم کیو ایم کا کراچی سے اسلام آباد مارچ کا عندیہ ٹرمپ حکومت کا عالمی فوجداری عدالت پر مزید پابندیاں لگانے کا منصوبہ، امریکی میڈیا شہباز شریف کے دونوں ادوار میں وفاقی حکومت کے قرضوں میں بڑا اضافہ، اعداد و شمار جاری
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

شہباز شریف کے دونوں ادوار میں وفاقی حکومت کے قرضوں میں بڑا اضافہ، اعداد و شمار جاری

Federal government debt increased during Shehbaz Sharif's two terms as prime minister

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کے دونوں ادوارِ حکومت کے دوران وفاقی حکومت کے قرضوں میں مجموعی طور پر 37 ہزار 307 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ تازہ رپورٹ میں شہباز شریف کے دونوں ادوار کا موازنہ سابق پی ٹی آئی حکومت کے تقریباً اسی دورانیے سے بھی کیا گیا ہے۔

قرضوں میں 37 ہزار 307 ارب روپے اضافہ

رپورٹ کے مطابق شہباز شریف کے تقریباً 3 سال اور 9 ماہ پر محیط دونوں ادوار کے دوران وفاقی حکومت کا قرض 37,307 ارب روپے بڑھا۔ اس کے مقابلے میں پی ٹی آئی حکومت کے تقریباً اسی دورانیے میں وفاقی حکومت کا قرض 18,323 ارب روپے بڑھا تھا۔

پہلے دور میں کتنا قرض بڑھا؟

شہباز شریف کے پہلے دورِ وزارتِ عظمیٰ میں، جو اپریل 2022 سے جولائی 2023 تک تقریباً 16 ماہ پر محیط تھا، وفاقی حکومت کے قرض میں 18,764 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ مارچ 2022 میں وفاقی حکومت کا قرض تقریباً 43,000 ارب روپے تھا جو جولائی 2023 تک بڑھ کر 61,777 ارب روپے ہوگیا۔

موجودہ دور میں بھی اضافہ جاری

شہباز شریف کے موجودہ دور میں مارچ 2024 سے جولائی 2026 تک تقریباً 29 ماہ کے دوران وفاقی حکومت کا قرض مزید 18,543 ارب روپے بڑھا۔ جولائی 2026 تک وفاقی حکومت کا قرض 83,883 ارب روپے تک پہنچ گیا تھا۔

اسٹیٹ بینک کے تازہ اعداد و شمار

اسٹیٹ بینک کے مطابق جولائی 2026 میں وفاقی حکومت کا قرض تقریباً 83.38 ٹریلین روپے تھا۔ جون 2026 میں یہ رقم 83.64 ٹریلین روپے تھی، یعنی ایک ماہ کے دوران معمولی کمی ریکارڈ ہوئی۔

ملکی قرض کا مجموعی حجم

جون 2026 کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کا مجموعی حکومتی قرض تقریباً 83.64 ٹریلین روپے تھا، جس میں وفاقی حکومت کا ملکی قرض 59.44 ٹریلین روپے جبکہ بیرونی قرض تقریباً 24.20 ٹریلین روپے تھا۔

قرض اور معیشت کا تناسب

حالیہ اعداد و شمار میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ قرض میں اضافے کے باوجود مجموعی قرض کا معیشت کے حجم سے تناسب کچھ کم ہوا ہے۔ مالی سال 2025-26 کے اختتام پر مجموعی حکومتی قرض تقریباً 86.7 ٹریلین روپے جبکہ جی ڈی پی کے مقابلے میں اس کا تناسب 68.3 فیصد رپورٹ کیا گیا۔

قرضوں میں اضافے کی وجوہات

قرضوں میں اضافہ مختلف عوامل سے جڑا ہوتا ہے، جن میں بجٹ خسارہ، پرانے قرضوں کی ادائیگی کے لیے نئی فنانسنگ، شرحِ سود اور دیگر مالی ضروریات شامل ہیں۔ حالیہ مالی سال میں حکومت نے مسلسل تیسری مرتبہ بنیادی بجٹ سرپلس بھی ریکارڈ کیا، جس سے قرض کے حجم میں اضافے کی رفتار کو محدود کرنے میں مدد ملی
مزید پڑھیں
ٹرمپ حکومت کا عالمی فوجداری عدالت پر مزید پابندیاں لگانے کا منصوبہ، امریکی میڈیا

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

:متعلقہ مضامین