لیاقت آباد میں خاتون پر تیزاب حملہ، پولیس نے شوہر سمیت 2 ملزمان کو گرفتار کرلیا نئے انتظامی یونٹس کا مطالبہ، ایم کیو ایم کا کراچی سے اسلام آباد مارچ کا عندیہ ٹرمپ حکومت کا عالمی فوجداری عدالت پر مزید پابندیاں لگانے کا منصوبہ، امریکی میڈیا شہباز شریف کے دونوں ادوار میں وفاقی حکومت کے قرضوں میں بڑا اضافہ، اعداد و شمار جاری
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

ٹرمپ حکومت کا عالمی فوجداری عدالت پر مزید پابندیاں لگانے کا منصوبہ، امریکی میڈیا

Trump administration plans additional sanctions against the International Criminal Court

امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ عالمی فوجداری عدالت (ICC) کے خلاف مزید سخت پابندیاں عائد کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق مجوزہ اقدامات میں پوری عدالت کو ہدف بنانا شامل ہے، جو واشنگٹن کی جانب سے پہلے عائد کی گئی انفرادی پابندیوں کے مقابلے میں وسیع تر اقدام ہوگا۔

پوری عدالت کو پابندیوں کا ہدف بنانے کی تیاری

رائٹرز اور وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹس کے مطابق امریکی انتظامیہ نے عالمی فوجداری عدالت کے خلاف ادارہ جاتی سطح پر پابندیوں کی تیاری کرلی ہے۔ ان پابندیوں کا اعلان رواں ہفتے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران یا اس کے فوراً بعد کیے جانے کا امکان بتایا گیا ہے۔

مالی لین دین پر ممکنہ پابندیاں

رپورٹس کے مطابق مجوزہ اقدامات کے تحت امریکی شہریوں اور کمپنیوں کے لیے عالمی فوجداری عدالت کو رقم، اشیا یا خدمات فراہم کرنے پر پابندیاں عائد کی جاسکتی ہیں، جبکہ بعض معاملات میں امریکی محکمہ خزانہ سے اجازت درکار ہوگی۔ وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق پابندیاں نافذ ہونے کے بعد زیادہ تر لین دین پر چھ سے سات ماہ کی رعایتی مدت دی جاسکتی ہے۔

عدالت کے روزمرہ کام متاثر ہونے کا خدشہ

رائٹرز کے مطابق ممکنہ پابندیوں سے عدالت کے آئی ٹی سروسز، انشورنس، تفتیش کاروں کی خدمات اور مالی معاملات متاثر ہوسکتے ہیں۔ عدالت کے صدر اور رجسٹرار پہلے ہی خبردار کرچکے ہیں کہ ادارے پر وسیع پابندیاں اس کے روزمرہ کام میں رکاوٹ ڈال سکتی ہیں۔

پہلے بھی ججز اور اہلکار پابندیوں کی زد میں

امریکی حکومت پہلے ہی عالمی فوجداری عدالت کے متعدد ججز اور پراسیکیوٹرز پر پابندیاں عائد کرچکی ہے۔ اگست 2026 میں عدالت کی صدر ٹوموکو اکانے اور سینئر ٹرائل وکیل عبداللہ سیے کو بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔

امریکا اور عالمی فوجداری عدالت میں اختلاف

امریکا عالمی فوجداری عدالت کا رکن نہیں ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ عدالت نے غیر رکن ممالک کے حکام کے خلاف کارروائی کرکے اپنے دائرۂ اختیار سے تجاوز کیا ہے۔ واشنگٹن نے خاص طور پر اسرائیلی حکام سے متعلق عدالت کی کارروائی اور افغانستان میں امریکی اہلکاروں سے متعلق سابق تحقیقات پر اعتراض کیا ہے۔

مزید اقدامات کا امکان

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جولائی میں عالمی فوجداری عدالت کو مزید الگ تھلگ کرنے کی مہم کا اعلان کیا تھا۔ اس میں عدالت کے رکن ممالک پر دباؤ ڈالنے اور اس کے ساتھ تعاون کرنے والی تنظیموں کے خلاف اقدامات سمیت مختلف آپشنز کا ذکر کیا گیا تھا۔

فیصلہ ابھی اعلان ہونا باقی

تازہ رپورٹس کے مطابق پابندیوں کی تیاری ہوچکی ہے، تاہم ان کے باضابطہ اعلان اور حتمی تفصیلات کا وقت ابھی واضح نہیں۔ اگر یہ اقدامات نافذ ہوتے ہیں تو عالمی فوجداری عدالت اور امریکی حکومت کے درمیان پہلے سے موجود اختلافات مزید نمایاں ہوسکتے ہیں
مزید پڑھیں
نئے انتظامی یونٹس کا مطالبہ، ایم کیو ایم کا کراچی سے اسلام آباد مارچ کا عندیہ

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

:متعلقہ مضامین