اسلام آباد میں غیر قانونی کال سینٹرز کے ذریعے بڑے پیمانے پر مبینہ ڈیجیٹل فراڈ اور مالی جرائم کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ حکام کی کارروائیوں کے دوران ایسے نیٹ ورک کا انکشاف ہوا ہے جن کے ذریعے بیرون ملک شہریوں کو مختلف طریقوں سے دھوکا دینے اور حاصل ہونے والی رقم کو منتقل کرنے کا الزام ہے۔
کال سینٹرز کے خلاف کارروائیاں
حکام نے اسلام آباد میں غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث کال سینٹرز کے خلاف کارروائیاں تیز کردی ہیں۔ حالیہ کارروائیوں کے دوران بڑی تعداد میں غیر ملکی شہریوں کو حراست میں لیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔
اربوں روپے کے فراڈ کا معاملہ
رپورٹس میں کال سینٹرز کے ذریعے ہونے والی مبینہ ڈیجیٹل لوٹ مار کا حجم 172 ارب روپے تک بتایا گیا ہے۔ تحقیقات میں اس بات کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ یہ رقم کن ذرائع سے حاصل کی گئی اور اسے کس طرح مختلف مالیاتی راستوں سے منتقل کیا گیا۔
منی لانڈرنگ کے الزامات
تحقیقات کے دوران مبینہ طور پر منی لانڈرنگ کے پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ حکام اس بات کا سراغ لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ فراڈ سے حاصل ہونے والی رقم کہاں منتقل ہوئی اور اس میں کون سے افراد یا ادارے ملوث رہے۔
غیر ملکی شہری بھی گرفتار
اسلام آباد کے گلبرگ گرینز میں ایک کال سینٹر کے خلاف کارروائی کے دوران 284 غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کیے جانے کی رپورٹ سامنے آئی تھی۔ حکام کے مطابق گرفتار افراد میں ایسے لوگ بھی شامل تھے جو مبینہ طور پر غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔
عالمی سطح پر فراڈ کا نیٹ ورک
کال سینٹرز کے ذریعے ہونے والے سائبر فراڈ میں عموماً بیرون ملک موجود افراد کو فون یا آن لائن رابطوں کے ذریعے مختلف طریقوں سے نشانہ بنایا جاتا ہے۔ تحقیقات کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ آیا اسلام آباد میں موجود نیٹ ورک کسی بڑے بین الاقوامی فراڈ گروہ سے منسلک تھا۔
سائبر جرائم کے خلاف کارروائی
پاکستان میں سائبر جرائم کی تحقیقات کیلئے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ اسلام آباد میں غیر قانونی کال سینٹرز کے خلاف اس نوعیت کی کارروائیاں پہلے بھی کی جا چکی ہیں۔
تحقیقات کا دائرہ وسیع
حکام کی جانب سے مبینہ فراڈ، مالی لین دین اور منی لانڈرنگ کے معاملات کی چھان بین جاری ہے۔ مزید تحقیقات کے بعد یہ واضح ہوسکے گا کہ اس نیٹ ورک میں کتنے افراد شامل تھے اور اربوں روپے کی مبینہ رقم کس طریقے سے منتقل کی گئی۔
مزید پڑھیں
اسلام آباد میں کال سینٹرز کے خلاف جاری کارروائی نے پاکستان میں منظم ڈیجیٹل فراڈ اور غیر قانونی مالی سرگرمیوں کے معاملے کو ایک بار پھر نمایاں کردیا ہے۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد معاملے میں مزید اہم انکشافات سامنے آنے کا امکان ہے۔
مزید پڑھیں
عدالتی حکم کی خلاف ورزی، آفریدی کی وزارت اعلیٰ خطرے میں پڑ سکتی ہے











