نئے صوبوں کا قیام وقت اور حالات کو دیکھ کر ہونا چاہیے: مولانا فضل الرحمان نئے صوبوں پر پیپلز پارٹی اکیلے فیصلہ کرسکتی ہے نہ اسے مسترد کرنے کا اختیار ہے: طلال چوہدری امریکا کی ٹیرف دھمکی روس کو بھارت کو تیل فروخت کرنے سے نہ روک سکی ایشیا کپ: پاکستان ویمنز نے ہانگ کانگ کو شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنا لی
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

نئے صوبوں کا قیام وقت اور حالات کو دیکھ کر ہونا چاہیے: مولانا فضل الرحمان

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے نئے صوبوں کے قیام کے معاملے پر کہا ہے کہ صوبے بنانا کوئی معمولی فیصلہ نہیں، اس کے لیے مناسب ماحول، تیاری اور سیاسی مشاورت ضروری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے ملک میں صوبوں کی تقسیم کے معاملے پر سنجیدہ مکالمہ ہونا چاہیے۔

صوبوں کے قیام پر مشاورت ضروری

مولانا فضل الرحمان کے مطابق نئے صوبوں یا انتظامی یونٹس کے قیام کا فیصلہ جلد بازی میں نہیں ہونا چاہیے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ایسے فیصلے میں متعلقہ علاقوں کے عوام کی رائے اور تمام سیاسی قوتوں سے مشاورت کو اہمیت دی جانی چاہیے۔انہوں نے اس معاملے پر سیاسی مکالمے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ صوبوں سمیت اہم قومی معاملات پر پارلیمنٹ میں تفصیلی بحث ہونی چاہیے اور اختلافات کو دلیل اور مشاورت کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔

ماحول اور تیاری کا معاملہ

مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ نئے صوبوں کی بات تو کی جارہی ہے، لیکن یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ کیا ملک اس وقت اس فیصلے کے لیے تیار ہے یا نہیں۔ ان کے مطابق ماحول اور ضروری تیاری کے بغیر صوبوں کی تقسیم کے منفی نتائج سامنے آسکتے ہیں۔انہوں نے ماضی کے تجربات کا حوالہ دیتے ہوئے بھی اشارہ کیا کہ انتظامی تبدیلیاں صرف نقشے پر نئی حد بندی کرنے کا نام نہیں بلکہ اس کے لیے سیاسی، انتظامی اور مالی معاملات کو پہلے سے طے کرنا ضروری ہے۔

عوام کی رائے اہم ہے

نئے صوبوں کے معاملے پر مولانا فضل الرحمان نے عوامی رائے کو بھی اہم قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی علاقے کی انتظامی حیثیت تبدیل کرنے سے پہلے وہاں کے عوام کی رائے جاننا ضروری ہے اور فیصلے کو زبردستی مسلط نہیں کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ صوبوں کے قیام کے معاملے کو سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر ملک کے وسیع تر مفاد میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔

این ایف سی اور وسائل کا سوال

مولانا فضل الرحمان نے صوبوں کی بحث کو مالی وسائل کی تقسیم سے بھی جوڑا ہے۔ ان کے مطابق این ایف سی ایوارڈ اور صوبوں کے وسائل و معدنیات سے متعلق اختیارات جیسے معاملات بھی نئے صوبوں کی بحث میں اہمیت رکھتے ہیں۔ اس لیے ان کے مؤقف کے مطابق نئے صوبوں کا فیصلہ صرف انتظامی بنیادوں پر نہیں بلکہ وسائل، اختیارات اور وفاق و صوبوں کے تعلقات کو سامنے رکھ کر کیا جانا چاہیے۔

سیاسی مکالمے پر زور

مولانا فضل الرحمان نے واضح کیا ہے کہ صوبوں سمیت ملک کے اہم معاملات پر سیاسی جماعتوں کے درمیان بات چیت ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق پارلیمنٹ میں سنجیدہ اور جامع بحث کے ذریعے مختلف آرا کو سامنے لایا جاسکتا ہے۔نئے صوبوں کا معاملہ گزشتہ کئی برس سے پاکستان کی سیاسی بحث کا حصہ رہا ہے، تاہم مولانا فضل الرحمان کا حالیہ مؤقف یہی ہے کہ اس حوالے سے فیصلہ وقت، حالات، تیاری اور عوامی و سیاسی مشاورت کو مدنظر رکھ کر ہونا چاہیے۔
مزید پڑھیں
ایشیا کپ: پاکستان ویمنز نے ہانگ کانگ کو شکست دے کر سیمی فائنل میں جگہ بنا لی

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

:متعلقہ مضامین