سندھ اسمبلی میں نئے صوبوں کے معاملے پر جاری بحث کے دوران پیپلز پارٹی کے رکن سندھ اسمبلی امداد پتافی نے سخت خطاب کرتے ہوئے سندھ کی تقسیم کے مطالبے پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی سندھ کے ٹکڑے نہیں ہونے دے گی۔
نئے صوبوں کے معاملے پر بحث
سندھ اسمبلی میں نئے صوبوں اور انتظامی تقسیم سے متعلق تحریک التوا پر بحث ہوئی، جس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے اراکین نے اپنے مؤقف کا اظہار کیا۔ اس دوران سندھ کی تقسیم اور کراچی کو الگ صوبہ بنانے جیسے مطالبات بھی زیر بحث آئے۔
امداد پتافی کا سخت بیان
امداد پتافی نے اپنے خطاب میں کہا کہ “جس کو گھر میں روٹی نہیں ملتی اس کو سندھ الگ چاہیے”۔ انہوں نے سندھ کی تقسیم کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی سندھ کے ٹکڑے نہیں ہونے دے گی۔
سندھ کی تقسیم کی مخالفت
پیپلز پارٹی کے رکن اسمبلی کا کہنا تھا کہ سندھ ایک تاریخی اور ثقافتی شناخت رکھتا ہے، جسے تقسیم کرنے کی کسی بھی کوشش کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کی وحدت برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔
ایم کیو ایم کا مؤقف
بحث کے دوران ایم کیو ایم پاکستان کے اراکین نے واضح کیا کہ ان کا مؤقف سندھ کو توڑنے سے متعلق نہیں بلکہ انتظامی بہتری اور وسائل کی منصفانہ تقسیم سے متعلق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آبادی کے تناسب سے سہولیات اور وسائل کی فراہمی ضروری ہے۔
وسائل کی تقسیم پر گفتگو
ایم کیو ایم اراکین نے سندھ کے مختلف علاقوں میں وسائل کی تقسیم اور ترقیاتی معاملات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ تمام علاقوں کو برابر مواقع اور سہولیات ملنی چاہئیں۔
سیاسی ماحول میں گرما گرمی
سندھ اسمبلی کا اجلاس نئے صوبوں کے معاملے پر سیاسی گرما گرمی کا شکار رہا۔ حکومتی اور اپوزیشن اراکین نے اپنے اپنے مؤقف کے حق میں دلائل دیے جبکہ سندھ کی سیاسی صورتحال ایک بار پھر زیر بحث آگئی۔
سندھ کے مستقبل پر بحث جاری
نئے صوبوں کے قیام کا معاملہ پاکستان میں ایک حساس سیاسی موضوع رہا ہے۔ سندھ اسمبلی میں ہونے والی بحث نے اس مسئلے کو دوبارہ نمایاں کردیا ہے، تاہم کسی بھی فیصلے کے لیے آئینی اور قانونی طریقہ کار کو اہم قرار دیا جاتا ہے۔
مزید پڑھیں
نصیرآباد میں اے سی کمپریسر پھٹنے سے ماں اور تین بچے جاں بحق










