میٹھے مشروبات کا روزانہ استعمال صحت کے لیے کئی مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔ ایک حالیہ تحقیق میں میٹھے مشروبات کے زیادہ استعمال اور معدے کے کینسر کے خطرے کے درمیان ممکنہ تعلق کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ روزمرہ خوراک میں اضافی چینی کی مقدار کم رکھنا مجموعی صحت کے لیے بہتر ہے۔
میٹھے مشروبات سے کیا مراد ہے؟
میٹھے مشروبات میں عام سافٹ ڈرنکس، انرجی ڈرنکس، میٹھے جوس اور دیگر ایسے مشروبات شامل ہوسکتے ہیں جن میں اضافی چینی شامل کی جاتی ہے۔ ان مشروبات کا مسلسل استعمال جسم میں ضرورت سے زیادہ چینی اور کیلوریز پہنچا سکتا ہے۔
معدے کے کینسر سے ممکنہ تعلق
تحقیق میں میٹھے مشروبات کے زیادہ استعمال اور معدے کے کینسر کے خطرے کے درمیان تعلق کا جائزہ لیا گیا۔ تاہم کسی بھی ایک غذائی عادت کو کینسر کی واحد وجہ قرار دینا درست نہیں، کیونکہ کینسر کا خطرہ کئی عوامل سے متاثر ہوسکتا ہے۔
وزن میں اضافے کا خطرہ
میٹھے مشروبات میں کیلوریز زیادہ ہوسکتی ہیں جبکہ انہیں پینے سے پیٹ بھرنے کا احساس نسبتاً کم ہوتا ہے۔ اس وجہ سے مسلسل استعمال وزن بڑھنے کا باعث بن سکتا ہے، اور موٹاپا مختلف بیماریوں کے خطرے میں اضافہ کرسکتا ہے۔
روزانہ استعمال کم کرنا بہتر
ماہرین صحت عام طور پر اضافی چینی کے استعمال کو محدود کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ میٹھے مشروبات کی جگہ سادہ پانی یا بغیر چینی کے مشروبات کا انتخاب روزمرہ خوراک میں غیر ضروری چینی کی مقدار کم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
صحت مند خوراک اپنائیں
صحت مند طرز زندگی کے لیے متوازن غذا، مناسب جسمانی سرگرمی اور میٹھے و انتہائی پراسیسڈ کھانے پینے کی اشیا کا محدود استعمال اہم ہے۔ معدے یا ہاضمے سے متعلق مسلسل علامات کی صورت میں ڈاکٹر سے مشورہ کرنا چاہیے۔
تحقیق کو سمجھنا بھی ضروری ہے
میٹھے مشروبات اور معدے کے کینسر کے درمیان تعلق سے متعلق تحقیق کو احتیاط سے سمجھنا ضروری ہے۔ کسی تحقیق میں خطرے میں اضافہ سامنے آنے کا مطلب یہ نہیں کہ ہر شخص جو میٹھا مشروب استعمال کرتا ہے اسے کینسر ہوجائے گا۔ انفرادی خطرہ عمر، وزن، خوراک، جینیاتی عوامل اور دیگر صحت سے متعلق عوامل سے بھی متاثر ہوتا ہے۔
مزید پڑھیں
گردوں کے مسائل کی سات خطرناک نشانیاں، بروقت پہچان ضروری











