برطانیہ میں کم عمر صارفین کی آن لائن سرگرمیوں کو محفوظ بنانے کے لیے ایک نئی تجویز سامنے آئی ہے، جس کے تحت 17 سال یا اس سے کم عمر نوجوانوں کے لیے رات 12 بجے سے صبح 6 بجے تک سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی یا خودکار رسائی بند کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ اس تجویز کا مقصد نوجوانوں کی ذہنی صحت، بہتر نیند اور محفوظ ڈیجیٹل ماحول کو فروغ دینا ہے۔
سوشل میڈیا کرفیو کی تجویز کیا ہے؟
مجوزہ منصوبے کے مطابق 17 سال یا اس سے کم عمر صارفین کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس رات 12 بجے سے صبح 6 بجے تک محدود کیے جا سکتے ہیں۔ اس دوران نوجوان یا تو پلیٹ فارمز تک رسائی حاصل نہیں کر سکیں گے یا انہیں مخصوص فیچرز استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ اس اقدام کا مقصد رات کے اوقات میں غیر ضروری اسکرین ٹائم کم کرنا اور کم عمر صارفین کو صحت مند معمول اپنانے کی ترغیب دینا ہے۔
یہ تجویز کیوں پیش کی گئی؟
حالیہ برسوں میں مختلف مطالعات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ رات گئے تک سوشل میڈیا استعمال کرنے سے نوجوانوں کی نیند، تعلیمی کارکردگی اور ذہنی صحت متاثر ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ کم نیند، مسلسل موبائل فون کا استعمال اور آن لائن دباؤ نوجوانوں میں بے چینی، تھکن اور توجہ کی کمی کا سبب بن سکتے ہیں۔ اسی لیے حکومت اور متعلقہ ادارے کم عمر صارفین کے تحفظ کے لیے نئے اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔
نوجوانوں اور والدین پر ممکنہ اثرات
اگر یہ تجویز نافذ ہوتی ہے تو والدین کو اپنے بچوں کی آن لائن سرگرمیوں پر نظر رکھنے میں آسانی ہو سکتی ہے۔ اس کے علاوہ نوجوانوں کو مناسب وقت پر سونے، تعلیمی سرگرمیوں پر توجہ دینے اور ڈیجیٹل آلات کے متوازن استعمال کی عادت اپنانے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
ٹیکنالوجی کمپنیوں کا کردار
اس تجویز پر عمل درآمد کی صورت میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ایسے فیچرز متعارف کرانے پڑ سکتے ہیں جو کم عمر صارفین کی عمر کی تصدیق کریں اور مقررہ اوقات میں ان کے اکاؤنٹس پر خودکار پابندی نافذ کر سکیں۔ اس حوالے سے ٹیکنالوجی کمپنیوں اور حکومتی اداروں کے درمیان مشاورت جاری رہنے کا امکان ہے۔
ماہرین کی رائے
ڈیجیٹل سیفٹی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کے تحفظ کے لیے ایسے اقدامات مفید ثابت ہو سکتے ہیں، تاہم ان کے ساتھ والدین کی رہنمائی، ڈیجیٹل تعلیم اور ذمہ دارانہ آن لائن رویوں کو فروغ دینا بھی ضروری ہے۔ ان کے مطابق صرف وقت کی پابندی کافی نہیں، بلکہ نوجوانوں کو محفوظ اور مثبت انداز میں انٹرنیٹ استعمال کرنے کی تربیت دینا بھی اہم ہے۔
نتیجہ
برطانیہ میں 17 سال یا اس سے کم عمر نوجوانوں کے لیے رات 12 بجے سے صبح 6 بجے تک سوشل میڈیا کرفیو کی تجویز ڈیجیٹل تحفظ کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ اگر اس پر عمل درآمد ہوتا ہے تو اس کے نوجوانوں کی صحت، نیند اور آن لائن عادات پر مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔
مزید پڑھیں
سعودی دارالحکومت ریاض میں گیس سلینڈر پھٹنے سے 6 پاکستانی جاں بحق









