گندم کی پیداوار خطرے میں
جنوبی پنجاب میں بدلتے موسم نے گندم کی فصل کو شدید متاثر کر دیا ہے، جس کے باعث اس سال پیداوار میں نمایاں کمی کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ کسان پہلے ہی مہنگائی اور اخراجات کے دباؤ میں ہیں، اور اب موسمی حالات نے ان کی مشکلات مزید بڑھا دی ہیں۔
غیر معمولی درجہ حرارت کا اثر
محکمہ موسمیات کے مطابق مارچ میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہا، جو گندم کی فصل کے لیے حساس وقت ہوتا ہے۔ اس دوران گرمی کی شدت بڑھنے سے گندم کا دانہ مکمل طور پر تیار نہیں ہو سکا اور اس کا سائز چھوٹا رہ گیا، جس سے پیداوار متاثر ہونے کا امکان ہے۔
بارش اور ژالہ باری نے نقصان بڑھایا
مارچ کے بعد اپریل کے آغاز میں غیر متوقع بارشوں اور ژالہ باری نے صورتحال کو مزید خراب کر دیا۔ وسیع رقبے پر کھڑی فصل متاثر ہوئی، جس کے باعث کسانوں کو بھاری نقصان کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کئی علاقوں میں فصل جزوی یا مکمل طور پر خراب ہو چکی ہے۔
کسانوں کی بڑھتی پریشانی
کسانوں کا کہنا ہے کہ اس سال فی ایکڑ پیداوار میں واضح کمی ہو سکتی ہے۔ دوسری جانب ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے نے کٹائی کے اخراجات کو تقریباً دوگنا کر دیا ہے، جس سے کسان شدید مالی دباؤ میں آ گئے ہیں۔
غذائی تحفظ کو خطرہ
جنوبی پنجاب ملک کی گندم کی بڑی پیداوار فراہم کرتا ہے، اس لیے یہاں کی فصل متاثر ہونے سے مجموعی غذائی صورتحال بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آنے والے وقت میں خوراک کی قلت کا خدشہ بڑھ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں
پاکستان نے دنیا کے مسائل حل کرنے کی صلاحیت ثابت کر دی، مولانا فضل الرحمان










