بڑا سائبر حملہ
یورپی یونین کے کلاؤڈ انفراسٹرکچر پر ایک بڑے سائبر حملے کے بعد حساس ڈیٹا لیک ہونے کا انکشاف ہوا ہے، جس نے عالمی سطح پر سائبر سیکیورٹی ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
کلاؤڈ سسٹم تک غیر قانونی رسائی
رپورٹس کے مطابق یورپی یونین کی سائبر سیکیورٹی ٹیم سی ای آر ٹی-ای یو نے تصدیق کی ہے کہ ہیکرز نے ایک متاثرہ اکاؤنٹ کے ذریعے سسٹم میں داخل ہو کر تقریباً 92 جی بی کمپریسڈ ڈیٹا حاصل کیا۔ یہ حملہ مبینہ طور پر ایمازون ویب سروسز کے ایک اکاؤنٹ سے جڑا ہوا تھا، جو یورپی یونین کے یوروبا ڈاٹ ای یو پلیٹ فارم سے منسلک سروسز کو سپورٹ کرتا ہے۔
لیک ہونے والا حساس ڈیٹا
ہیکرز کی جانب سے حاصل کیے گئے ڈیٹا میں شامل ہیں ای میلز اور اندرونی مواصلات صارفین کے نام اور ای میل ایڈریسز اداروں کے اندرونی ریکارڈز ماہرین کے مطابق اس لیک سے ذاتی اور ادارہ جاتی معلومات کے افشا ہونے کا سنگین خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔
سپلائی چین حملہ کیسے ہوا؟
تحقیقات میں بتایا گیا ہے کہ یہ حملہ ایک سپلائی چین اٹیک کے ذریعے کیا گیا، جس میں ہیکرز نے ایک اوپن سورس سیکیورٹی ٹول کو نشانہ بنایا اور وہاں سے ایک خفیہ اے پی آئی کلید حاصل کی۔ اسی کلید کے ذریعے بعد میں کلاؤڈ سسٹم تک رسائی حاصل کی گئی۔
کئی ادارے متاثر
رپورٹس کے مطابق کم از کم 29 یورپی ادارے اس سائبر حملے سے متاثر ہوئے، جبکہ درجنوں اندرونی صارفین کا ڈیٹا بھی لیک ہونے کے شواہد ملے ہیں۔
ڈیٹا آن لائن لیک
چوری شدہ معلومات بعد میں ہیکنگ گروپ شائنی ہنٹرز کی جانب سے آن لائن شیئر کی گئیں، جو پہلے بھی بڑے پیمانے پر سائبر حملوں اور ڈیٹا لیکس میں ملوث رہ چکا ہے۔
بڑھتا ہوا سائبر سیکیورٹی خطرہ
ماہرین کے مطابق یہ واقعہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ جدید کلاؤڈ سسٹمز بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں، اور سپلائی چین کمزوریاں بڑے پیمانے پر نقصان کا سبب بن سکتی ہیں۔
مزید پڑھیں
پاکستان کی جانب سے قرض واپسی کا سلسلہ جاری، یورو بانڈ کی مد میں 1.3 ارب ڈالر ادا










