مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی، ایران کی امریکا کو وارننگ
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے دوران ایران کی جانب سے امریکا کو سخت وارننگ جاری کی گئی ہے۔ ایرانی قیادت نے کہا ہے کہ کسی بھی جارحانہ اقدام کے نتیجے میں عالمی توانائی اور تجارت کا نظام شدید متاثر ہو سکتا ہے۔
امریکی صدر کے بیان پر ایران کا ردعمل
ایرانی قیادت نے ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیان کو غیر اخلاقی اور دھمکی آمیز قرار دیتے ہوئے شدید ردعمل دیا ہے۔ ایرانی سپریم لیڈر کے سینیئر مشیر علی اکبر ولایتی نے کہا کہ اگر امریکا نے کوئی غلط قدم اٹھایا تو عالمی تجارت اور توانائی کی ترسیل ایک ہی جھٹکے میں مفلوج ہو سکتی ہے۔
آبنائے ہرمز اور باب المندب کی اہمیت
ایرانی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کا اہم راستہ ہے۔ باب المندب بھی اسی نوعیت کا اسٹریٹیجک مقام ہے۔ ایران نے واضح کیا کہ اگر کشیدگی بڑھی تو ان اہم راستوں کی بندش سے عالمی معیشت کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ایرانی قیادت کے سخت بیانات
ایرانی نائب صدر محمد رضا عارف نے امریکی صدر کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عوام کی فلاح کو نظر انداز کرکے دھمکیاں دینا غیر ذمہ دارانہ عمل ہے۔ اسی طرح ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا کہ جنگی جرائم کے ذریعے کچھ حاصل نہیں کیا جا سکتا اور خطے میں کشیدگی بڑھنے سے عالمی سطح پر خطرناک نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ اور عالمی برادری سے مطالبہ
اقوام متحدہ میں ایرانی مشن نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ جنگی دھمکیوں کا فوری نوٹس لیا جائے اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنایا جائے۔ پاکستان میں ایرانی سفارت خانے نے بھی امریکی صدر کے رویے پر سخت اعتراض کرتے ہوئے مواخذے کا مطالبہ کیا ہے۔
مزید پڑھیں
پی ڈی ایم اے رپورٹ، کے پی میں بارشوں کے باعث 45 اموات کی تصدیق











