عمران خان کا مذاکرات سے دوبارہ انکار
سابق وزیراعظم عمران خان نے ایک مرتبہ پھر حکومت کے ساتھ مذاکرات کی تجویز مسترد کر دی ہے جبکہ حکومتی حلقوں کا مؤقف ہے کہ 9 مئی کے واقعات اور فوج مخالف مہم پر معافی کے بغیر کسی بھی قسم کے مذاکرات ممکن نہیں۔
احتجاجی پالیسی تبدیل نہیں ہوگی
عمران خان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں مذاکرات کی اپیل کو رد کرتے ہوئے واضح کیا کہ پارٹی احتجاجی تحریک اسی حکمت عملی کے مطابق چلائے گی جو ان کی جانب سے دی گئی ہے۔ پی ٹی آئی کے سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم کے مطابق احتجاجی پالیسی براہِ راست عمران خان کی ہدایت ہے اور پارٹی اسی پر عمل کرے گی، جبکہ محمود خان اچکزئی اپنی سیاسی سرگرمیاں جاری رکھ سکتے ہیں مگر حتمی لائن عمران خان کی ہوگی۔
معذرت کے بغیر مذاکرات ناممکن
وزیراعظم شہباز شریف کے قریبی ذرائع کے مطابق 9 مئی کے واقعات، فوجی تنصیبات پر حملوں اور فوج مخالف مہم کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اظہارِ ندامت یا معافی کے بغیر کوئی بامعنی مذاکرات ممکن نہیں۔ حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسے حالات میں مکالمہ اسی وقت ممکن ہے جب پی ٹی آئی باضابطہ طور پر ذمہ داری تسلیم کرے اور معذرت کرے۔
مذاکرات کی اپیل اور بڑھتی کشیدگی
اپوزیشن اتحاد کی قومی مشاورتی کانفرنس میں محمود خان اچکزئی نے ملک کو بحران سے نکالنے کیلئے مذاکرات کی اپیل کی تھی، تاہم عمران خان کے تازہ بیان کے بعد سیاسی ماحول ایک بار پھر کشیدہ ہو گیا ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر دونوں اطراف اپنے مؤقف میں نرمی نہ لائے تو سیاسی تناؤ مزید بڑھ سکتا ہے۔
مزید پڑھیں
انڈر 19 ایشیا کپ جیت کر قومی ٹیم وطن واپس، ائیرپورٹ پر والہانہ استقبال











