بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی ادائیگیاں اب ڈیجیٹل
پاکستان کی ایک کروڑ سے زائد غریب خواتین اب باقاعدہ بینک اکاؤنٹس کی حامل ہو گئی ہیں، جس سے وہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت ماہانہ وظائف ڈیجیٹل طور پر حاصل کر سکیں گی۔
موبائل اور بینک اکاؤنٹس کی سہولت
مستحق خواتین کے لیے موبائل والٹ اکاؤنٹس کھولے گئے ہیں جن میں ایچ بی ایل، بینک الفلاح، بینک آف پنجاب، جاز کیش اور ایزی پیسہ شامل ہیں۔ یہ اکاؤنٹس خواتین کے شناختی کارڈ سے منسلک ہوں گے اور موبائل فون کے ذریعے استعمال کیے جائیں گے۔ حکومت نے ٹیلی کام کمپنیوں کے تعاون سے مفت سم کارڈز بھی فراہم کرنے کا آغاز کیا ہے۔
بائیومیٹرک تصدیق اور تحفظ
رقم صرف بائیومیٹرک تصدیق کے ذریعے نکل سکے گی، اور ڈیبٹ کارڈز جاری نہیں کیے جائیں گے تاکہ کسی ایجنٹ یا گھر کے مرد کے ذریعے استحصال کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔ حکومت کا ہدف ہے کہ مارچ تک 80 فیصد خواتین کو سم کارڈ فراہم کیے جائیں اور جون تک BISP کی تمام ادائیگیاں 100 فیصد ڈیجیٹل ہوں۔
چیلنجز اور حل
اہم چیلنج ان خواتین تک رسائی ہے جن کے پاس موبائل فون موجود نہیں۔ ملک میں موجود 16 ہزار اے ٹی ایم میں سے صرف 6 ہزار بائیومیٹرک تصدیق کی سہولت فراہم کرتے ہیں، تاہم سہولت کیلیے قریبی دکانوں پر موجود بائیومیٹرک ڈیوائسز سے بھی تصدیق ممکن ہوگی۔
مزید پڑھیں
پاکستان تحریکِ انصاف کی مشکلات میں اضافہ؛ تجزیہ کار خان کو ذمہ دار قرار دے رہے ہیں











