قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس اور پی ٹی آئی کی غیر متوقع واپسی
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور وزیردفاع خواجہ آصف نے بلاول بھٹو زرداری کی ثالثی کی پیشکش کو مثبت قدم قرار دیا ہے۔ جیو نیوز کے پروگرام کیپیٹل ٹاک میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر بلاول قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس دوبارہ بلانے اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو اس میں شامل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو یہ ایک خوش آئند پیش رفت ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ رات گیارہ بجے تک پی ٹی آئی قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے لیے تیار تھی، مگر بعد میں اچانک انکار کردیا گیا۔ ان کے مطابق، پی ٹی آئی کا نعرہ خان نہیں تو پاکستان نہیں، اب حقیقت بنتا جا رہا ہے۔
بلاول بھٹو کی کوششیں اور حکومت کی حمایت
خواجہ آصف نے بلاول بھٹو کی سوچ کو تعمیری اور مثبت قرار دیتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی حکومت کے ساتھ کھڑی ہے اور صدر آصف زرداری بھی انہیں سپورٹ کر رہے ہیں۔ اگر بلاول پی ٹی آئی کو مذاکرات پر آمادہ کر لیتے ہیں تو یہ ایک اچھا قدم ہوگا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ نجی محافل میں پی ٹی آئی قیادت حکومت سے رابطے میں ہے اور قومی سلامتی کے اجلاس میں شرکت پر آمادگی ظاہر کر چکی تھی، مگر بعد میں فیصلے میں تبدیلی کر لی گئی۔
آل پارٹیز کانفرنس میں حکومتی شرکت کا امکان
پی ٹی آئی کی طرف سے آل پارٹیز کانفرنس (اے پی سی) بلانے کے اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی حکومت کے نمائندوں کو باضابطہ دعوت دیتی ہے اور رابطہ کرتی ہے تو حکومت اس تجویز پر غور کرے گی۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ سیاسی معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کرنا ضروری ہے اور یکطرفہ فیصلے کارگر نہیں ہوں گے۔
افغانستان اور بلوچستان سے متعلق پالیسی
افغانستان کے ساتھ تعلقات پر گفتگو کرتے ہوئے وزیردفاع نے کہا کہ پاکستان کی خواہش ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات مستحکم رہیں۔ تاہم، خیبرپختونخوا میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات میں افغان سرزمین کے استعمال پر انہوں نے تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ان معاملات کے سدھار کے لیے غیر معمولی اقدامات کی ضرورت ہے۔ بلوچستان کے مسائل پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبے کی روایتی اور غیر روایتی قیادت کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کو بات چیت کے عمل کی قیادت کرنی چاہیے جبکہ ڈاکٹر عبدالمالک بھی اس میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
سوشل میڈیا اور صحافت کا کردار
خواجہ آصف نے کہا کہ ملک میں تلخ سیاسی ماحول میں سوشل میڈیا کا بہت بڑا کردار ہے، جہاں صحافت تقسیم ہوچکی ہے۔ سیاسی اختلافات کی بنیاد پر کسی کے ذاتی معاملات کو نشانہ بنانا غیر اخلاقی عمل ہے، جس کے ردعمل میں مزید کشیدگی جنم لیتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اختلاف رائے کا اظہار مہذب انداز میں ہونا چاہیے تاکہ معاشرتی ہم آہنگی برقرار رہے۔
مزید پڑھیں
حکومت نے بلاول کی ثالثی قبول کر لی، قومی سلامتی کمیٹی اجلاس پر اتفاق