سابق گورنر پنجاب سردار ذوالفقار کھوسہ انتقال کر گئے پی ایس ایل میں پشاور زلمی کی تاریخی جیت، کراچی کنگز کو 159 رنز سے شکست ایران جنگ نہیں چاہتا مگر اپنے حقوق سے دستبردار بھی نہیں ہوگا، مجتبیٰ خامنہ ای اسلام آباد مذاکرات، غیر ملکی مندوبین کے لیے ویزا آن ارائیول کا اعلان
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

شیخ وقاص اکرم: موجودہ حکومت اخلاقی حیثیت کھو چکی ہے۔

Sheikh Waqas Akram accused the government of holding a fake mandate and presented evidence of electoral rigging, while Khurram Dastgir emphasized the need for a national dialogue.

شیخ وقاص اکرم کا حکومت پر الزام اور انتخابی نتائج پر تحفظات

رہنما تحریک انصاف شیخ وقاص اکرم نے حکومت کی اخلاقی پوزیشن پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت کے ارکان اور ممبران اسمبلی کے پاس کوئی حقیقی جواز نہیں ہے، کیونکہ یہ تمام افراد جعلی مینڈیٹ کے حامل ہیں۔ شیخ وقاص اکرم نے دعویٰ کیا کہ ان کے مینڈیٹ کو چوری کیا گیا ہے، اور ان کے بقول الیکشن کے دوران پوسٹ پولنگ اور پری پولنگ میں دھاندلی کی گئی تھی، جس کے ثبوت بھی ان کے پاس موجود ہیں۔

الیکشن ٹریبونلز میں مسائل اور انصاف کا فقدان

شیخ وقاص اکرم نے مزید کہا کہ تحریک انصاف کے اراکین نے انتخابی دھاندلی کے خلاف الیکشن ٹریبونلز میں درخواستیں دائر کی ہیں، لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ ان کی درخواستوں کی سماعت کے لیے تاریخیں نہیں لگائی جا رہی ہیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عوام اور دنیا نے ان دھاندلیوں کو دیکھا ہے، لیکن ابھی تک انصاف کی فراہمی میں کوئی پیشرفت نہیں ہو سکی ہے۔

خرم دستگیر کی جانب سے قومی ڈائیلاگ کی ضرورت پر زور

مسلم لیگ (ن) کے رہنما خرم دستگیر نے قومی ڈائیلاگ کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم اپنی معیشت کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنا چاہتے ہیں، تو ہمیں مشکل فیصلوں کو کھلے دل سے ڈسکس کرنا چاہیے اور ان پر مکمل اتفاق رائے حاصل کرنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق مسلم لیگ (ن) اس بات کی حامی ہے کہ جہاں بھی سیاسی اختلافات ہوں، ان کو منظم اور بامقصد طریقے سے بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔

جے یو آئی (ف) اور پی ٹی آئی کے درمیان اختلافات

جے یو آئی (ف) کے رہنما اسلم غوری نے اپنی پارٹی کے موقف کو واضح کیا اور کہا کہ وہ اس وقت پی ٹی آئی کے ساتھ کسی اتحاد کے لیے تیار نہیں ہیں، جب تک کہ انہیں اس بات کا مکمل اعتماد نہ ہو کہ یہ اتحاد ان کے مفاد میں ہوگا۔ اسلم غوری نے بتایا کہ ان کی پارٹی اور پی ٹی آئی کے درمیان پندرہ سے سولہ سال پرانے بڑے اختلافات ہیں، اور باوجود اس کے کہ ان کی پارٹی کھلے دل سے آگے بڑھنے کے لیے تیار تھی، لیکن انہیں اعتماد میں لیے بغیر کوئی اتحاد قائم نہیں کیا جا سکتا۔

مزید پڑھیں
تمام جماعتوں سے رابطے جاری، رمضان میں اتحاد کی امید ہے، بیرسٹر گوہر

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

:متعلقہ مضامین