فلور ملز ایسوسی ایشن کی وارننگ
پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن نے خبردار کیا ہے کہ اگر سندھ حکومت نے جنوری کے لیے فلور ملوں کو گندم کا کوٹہ فوری طور پر جاری نہ کیا تو صوبے بھر میں آٹے کی قیمتیں قابو سے باہر ہو سکتی ہیں۔
اربوں روپے جمع، گندم پھر بھی جاری نہ ہوئی
پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالجنید عزیز نے بتایا کہ فلور ملز کی جانب سے سندھ حکومت کو گندم کی خریداری کے لیے ساڑھے تین سے چار ارب روپے جمع کروائے جا چکے ہیں، اس کے باوجود گندم کے اجرا میں تاخیری حربے اختیار کیے جا رہے ہیں۔
گندم کے وافر ذخائر کے باوجود تاخیر
چیئرمین فلور ملز ایسوسی ایشن کے مطابق محکمہ خوراک سندھ کے پاس گندم کے وافر ذخائر موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود فلور ملوں کو کوٹہ فراہم نہیں کیا جا رہا، جس سے آٹے کی سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔
آٹے کی قلت کا خطرہ
فلور ملز ایسوسی ایشن نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ گندم کی فراہمی نہ ہونے کی صورت میں سندھ اور خصوصاً کراچی میں آٹے کی قلت پیدا ہو سکتی ہے، جس کا براہ راست اثر عام صارف پر پڑے گا۔
حکومت کو ایک دن کی مہلت
سیکریٹری خوراک سندھ کے ساتھ ہونے والے اجلاس میں فلور ملز ایسوسی ایشن کی جانب سے مسائل کے حل کے لیے ایک روز کی مہلت دی گئی ہے۔ ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
سندھ میں فلور ملوں کی صورتحال
کراچی میں اس وقت تقریباً ایک سو فلور ملیں فعال ہیں جبکہ سندھ حکومت کی جانب سے فی فلور مل سولہ ہزار چھ سو بوری گندم کا کوٹہ مقرر کیا گیا ہے، تاہم عملی طور پر یہ کوٹہ جاری نہیں ہو رہا۔
مزید پڑھیں
وینزویلا بحران: پاکستان کا فوجی کارروائی مسترد، سفارتکاری پر زور











