غیر معمولی صورتحال کا سامنا
واشنگٹن سے سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں ایرانی حملوں کے بعد امریکی فوج کو غیر معمولی حالات کا سامنا ہے۔ سیکیورٹی خدشات اور نقصان کے باعث فوجی اہلکاروں کی معمول کی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں۔
ہوٹلوں اور دفاتر سے کام
امریکی اخبار کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے۔ کہ متعدد فوجی اہلکار اب اپنے اڈوں کے بجائے ہوٹلوں اور دفاتر سے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کئی اہم سرگرمیاں ریموٹ طریقے سے بھی جاری رکھی جا رہی ہیں۔ جو ایک غیر روایتی حکمت عملی سمجھی جا رہی ہے۔
فوجی اڈوں کو شدید نقصان
رپورٹ کے مطابق ایرانی حملوں کے نتیجے میں 13 امریکی فوجی اڈے شدید متاثر ہوئے ہیں اور کئی مقامات ناقابلِ رہائش ہو چکے ہیں۔ ان میں کویت میں قائم امریکی اڈہ سب سے زیادہ متاثر بتایا جا رہا ہے۔
محدود عملہ اڈوں پر موجود
ذرائع کے مطابق اس وقت متاثرہ اڈوں پر صرف پائلٹس اور ٹیکنیشنز کی محدود تعداد موجود ہے۔ جبکہ دیگر عملہ حفاظتی وجوہات کی بنا پر ریموٹ انداز میں اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہا ہے۔
سیکیورٹی اور حکمت عملی میں تبدیلی
ماہرین کے مطابق اس صورتحال نے امریکی فوج کو اپنی حکمت عملی میں نمایاں تبدیلیاں کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ بدلتے ہوئے حالات اور سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر اب روایتی طریقہ کار پر انحصار کم کیا جا رہا ہے اور جدید ٹیکنالوجی کو زیادہ ترجیح دی جا رہی ہے۔ ریموٹ آپریشنز، ڈرون ٹیکنالوجی، اور متبادل مقامات سے کام کرنا موجودہ حالات میں ایک عارضی لیکن نہایت ضروری اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔ جس کے ذریعے نہ صرف جانی نقصان کو کم کیا جا سکتا ہے۔ بلکہ آپریشنز کی کارکردگی کو بھی بہتر بنایا جا سکتا ہے۔
مزید برآں، ماہرین کا کہنا ہے۔ کہ اس حکمت عملی سے فوج کو لچک حاصل ہوتی ہے۔ جس کے ذریعے وہ کسی بھی غیر متوقع صورتحال کا بروقت اور مؤثر جواب دے سکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، ان اقدامات کے ذریعے وسائل کا بہتر استعمال ممکن ہو رہا ہے اور حساس علاقوں میں براہِ راست موجودگی کم کرنے سے خطرات میں بھی کمی آ رہی ہے۔ اگرچہ یہ اقدامات وقتی نوعیت کے ہیں۔ تاہم مستقبل میں بھی ان جدید طریقوں کو مستقل حکمت عملی کا حصہ بنایا جا سکتا ہے تاکہ بدلتے ہوئے۔ عالمی حالات کے مطابق دفاعی نظام کو مزید مضبوط اور مؤثر بنایا جا سکے۔
مزید پڑھیں
ٹرمپ کا دعویٰ، ایران مذاکرات چاہتا ہے مگر قیادت کو عوام کے ردعمل کا خوف











