ایران–امریکا معاہدہ
پیرس میں ہونے والی ایک ملاقات کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے ساتھ طے پانے والا نیا معاہدہ ایران کی ممکنہ جوہری عسکری صلاحیت کے خلاف ایک مضبوط رکاوٹ ثابت ہوگا۔ ان کے مطابق یہ معاہدہ خطے میں استحکام کی طرف ایک اہم قدم ہو سکتا ہے۔
جوہری پروگرام پر امریکا کا مؤقف
ٹرمپ نے کہا کہ نیا معاہدہ ایران کے جوہری پروگرام کو صرف پرامن مقاصد تک محدود رکھنے میں مدد دے گا۔ ان کے مطابق اس اقدام کا مقصد مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنا اور ایک زیادہ متوازن صورتحال پیدا کرنا ہے۔
اوباما دور کے معاہدے پر تنقید
امریکی صدر نے سابق صدر باراک اوباما کے دور میں ہونے والے ایران جوہری معاہدے پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ وہ معاہدہ مشرق وسطیٰ کے لیے خطرناک تھا اور اس سے ایران کو جوہری صلاحیت حاصل کرنے کا موقع مل سکتا تھا۔
آبنائے ہرمز سے متعلق دعویٰ
ٹرمپ کے مطابق مجوزہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو جلد مکمل طور پر کھولا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے عالمی توانائی کی ترسیل میں بہتری آئے گی اور تجارتی سرگرمیاں معمول پر آ سکیں گی۔
خطے پر ممکنہ اثرات
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ معاہدہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو اس کے مشرق وسطیٰ پر اہم اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ ممکنہ طور پر خطے میں کشیدگی میں کمی عالمی تیل منڈی میں استحکام بین الاقوامی تجارت میں بہتری تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کی اصل نوعیت اور نفاذ ابھی غیر واضح ہے۔
مزید پڑھیں
امریکا نے اسرائیل کو ایران کے ساتھ معاہدے کی تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا










