اگر استعفے سے کراچی بچتا ہے تو ابھی چھوڑنے کو تیار ہوں، مصطفیٰ کمال بالائی علاقوں میں برف کا قہر، رابطہ سڑکوں کی بندش، 2 افراد جاں بحق لاہور میں لٹکتی تاروں اور اوورلوڈ کیبلز کے مسئلے پر کمیٹی قائم
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

بڑے اسپتالوں کا رش کم کرنے کیلئے ٹیلی میڈیسن سسٹم باقاعدہ آغاز

Telemedicine system launched in Pakistan to reduce hospital crowd

ٹیلی میڈیسن کے ذریعے صحت کے شعبے میں انقلاب

پاکستان میں بڑے اسپتالوں میں مریضوں کے رش کو کم کرنے کے لیے ٹیلی میڈیسن سسٹم کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ وزارت صحت کے تعاون سے صحت کہانی کے زیر اہتمام پہلے ہیلتھ کیئر سینٹر کی افتتاحی تقریب منعقد ہوئی، جس میں وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے شرکت کی۔ وفاقی وزیر صحت نے کہا کہ بڑے اسپتالوں میں سیاسی جلسوں کی مانند ہجوم اس لیے نظر آتا ہے کیونکہ پرائمری اور سیکنڈری ہیلتھ کیئر سسٹم مؤثر طریقے سے کام نہیں کر رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیلی میڈیسن سسٹم پرائمری ہیلتھ سسٹم کا مؤثر متبادل ہے اور یہ شعبہ صحت میں ایک خاموش انقلاب ثابت ہو سکتا ہے۔

ٹیلی میڈیسن پراجیکٹ کا آغاز

اسلام آباد کے گوگینہ گاؤں میں ٹیلی میڈیسن پراجیکٹ کا باقاعدہ آغاز ہو چکا ہے، جہاں صحت کہانی ادارہ ڈیجیٹل صحت سہولیات فراہم کرے گا۔ اس سسٹم کے ذریعے مریض آن لائن کیمرے کے ذریعے جنرل فزیشنز سے مشورہ حاصل کر سکیں گے اور آن لائن دوا کی پرچی بھی جاری کی جائے گی۔ وفاقی وزیر صحت کے مطابق اسلام آباد کے 6 اور کراچی کے 4 مقامات پر ٹیلی میڈیسن سسٹم نصب کیا جا رہا ہے، جہاں مجموعی طور پر 18 ڈاکٹر آن لائن موجود ہوں گے اور مریض بیک وقت تین ڈاکٹرز سے مشورہ حاصل کر سکیں گے۔

مریضوں اور ڈاکٹروں کے لیے فوائد

بڑے اسپتالوں کا رش کم ہونا شروع ہو جائے گا۔ مریضوں کو آن لائن دوا کی پرچی اور ادویات فراہم کی جائیں گی۔ خواتین ڈاکٹرز گھر بیٹھے مریضوں کا علاج کر سکیں گی، جو پہلے پریکٹس نہیں کرتیں۔ بی ایچ یو مراکز میں صبح سے شام 6 بجے تک مریضوں کا معائنہ ہوگا اور وفاقی وزیر صحت خود سرپرائز وزٹس کرتے رہیں گے۔ مصطفیٰ کمال نے کہا کچھ ماہ پہلے ہم نے یہ خواب دیکھا تھا اور آج یہ بارش کا پہلا قطرہ ہے۔ ہر ہفتے ایک بی ایچ یو کا افتتاح کیا جائے گا تاکہ بنیادی صحت مراکز سے زیادہ سے زیادہ مریضوں کو سہولت فراہم کی جا سکے۔

مزید پڑھیں
گوگل اے آئی کے مشوروں نے صارفین کی صحت کو خطرے میں ڈال دیا؟

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

:متعلقہ مضامین