سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے سوشل میڈیا پر مبینہ کردار کشی کے خلاف قانونی کارروائی کا فیصلہ کر لیا ہے۔ انہوں نے مبینہ طور پر توہین آمیز اور منفی مواد پھیلانے کے معاملے پر متعلقہ ادارے سے رجوع کیا ہے۔
این سی سی آئی اے سے رجوع
شرجیل میمن نے سوشل میڈیا پر مبینہ کردار کشی کے خلاف نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) سے رابطہ کیا ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سوشل میڈیا پر پھیلائے جانے والے مبینہ منفی اور غیر مناسب مواد کی تحقیقات کی جائیں۔
سوشل میڈیا مواد پر اعتراض
شرجیل میمن کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پر ان کے خلاف مبینہ طور پر ایسا مواد نشر کیا گیا جس سے ان کی ساکھ متاثر کرنے کی کوشش کی گئی۔ان کے مطابق سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کسی بھی شخص کے خلاف غیر مصدقہ مواد پھیلانے سے پہلے حقائق کی جانچ ضروری ہے۔
قانونی کارروائی کا مطالبہ
شرجیل میمن نے متعلقہ حکام سے معاملے کی تحقیقات اور ذمہ دار افراد کا تعین کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی شخص کی کردار کشی کے لیے جان بوجھ کر جھوٹا یا گمراہ کن مواد پھیلایا جائے تو قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔
سوشل میڈیا پر ذمہ داری کی ضرورت
سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث عوامی شخصیات اور عام شہریوں کے خلاف مختلف قسم کی معلومات تیزی سے پھیل جاتی ہیں۔ماہرین کے مطابق کسی بھی مواد کو شیئر کرنے سے پہلے اس کی تصدیق کرنا ضروری ہے تاکہ غلط معلومات اور بے بنیاد الزامات سے کسی کی ساکھ متاثر نہ ہو۔
معاملے کی تحقیقات متوقع
این سی سی آئی اے سے رجوع کیے جانے کے بعد اب متعلقہ ادارے کی جانب سے شکایت کا جائزہ لینے اور دستیاب شواہد کی بنیاد پر کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔تحقیقات کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ مبینہ سوشل میڈیا مہم کے پیچھے کون لوگ یا اکاؤنٹس ملوث تھے۔
نتیجہ
شرجیل میمن نے سوشل میڈیا پر مبینہ کردار کشی کے خلاف بڑا قدم اٹھاتے ہوئے این سی سی آئی اے سے رجوع کر لیا ہے۔ انہوں نے مبینہ طور پر پھیلائے گئے مواد کی تحقیقات اور ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
مزید پڑھیں
آزاد کشمیر انتخابات کا تیسرا مرحلہ، پولنگ کا عمل جاری








