اگر استعفے سے کراچی بچتا ہے تو ابھی چھوڑنے کو تیار ہوں، مصطفیٰ کمال بالائی علاقوں میں برف کا قہر، رابطہ سڑکوں کی بندش، 2 افراد جاں بحق لاہور میں لٹکتی تاروں اور اوورلوڈ کیبلز کے مسئلے پر کمیٹی قائم
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

ٹیکنالوجی میں انقلاب:ٹی وی پر دکھایا جانے والا کھانا اب چکھا بھی جا سکے گا؟

Taste the TV technology allows viewers to taste food shown on screen

جاپان میں حیران کن ایجاد

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ایک حیرت انگیز پیش رفت سامنے آئی ہے۔ جہاں اب ٹی وی اسکرین پر دکھائے جانے والے کھانوں کا ذائقہ بھی محسوس کیا جا سکے گا۔ جاپان میں تیار کی گئی اس نئی ٹیکنالوجی نے سائنس اور انسانی حِسّیات کے درمیان ایک نیا دروازہ کھول دیا ہے۔

ٹیسٹ دی ٹی وی کیا ہے؟

اس جدید تجرباتی آلہ کو ’ٹی وی کا ذائقہ چکھیں‘ یا ٹی ٹی ٹی وی کا نام دیا گیا ہے۔ جسے میجی یونیورسٹی کے پروفیسر ہومی میاشِتا نے اپنی تحقیقی ٹیم کے ساتھ مل کر تیار کیا۔ بظاہر یہ ایک عام ہموار پردے والا ٹی وی جیسا دکھائی دیتا ہے، مگر اس کے اندر ایک منفرد ذائقہ منتقل کرنے والا نظام نصب ہے۔

ذائقہ کیسے محسوس کیا جائے گا؟

رپورٹس کے مطابق اس ٹی وی میں دس بنیادی ذائقوں مثلاً میٹھا، نمکین، کھٹا، کڑوا اور دیگر کو مخصوص تناسب میں اسکرین پر منتقل کیا جاتا ہے۔ ناظرین اس اسکرین پر زبان پھیر کر براہِ راست اس کھانے کا ذائقہ محسوس کر سکتے ہیں جو اس وقت ٹی وی پر دکھایا جا رہا ہو۔

اس ٹیکنالوجی کا مقصد کیا ہے؟

پروفیسر ہومی میاشِتا کے مطابق اس ایجاد کا مقصد صرف تفریح فراہم کرنا نہیں۔ بلکہ انسانی تجربات کو ایک نئی جہت دینا ہے۔ انہوں نے بتایا۔ کہ کورونا وبا کے دوران جب لوگ گھروں تک محدود تھے۔ تب یہ خیال سامنے آیا۔ کہ ٹیکنالوجی کے ذریعے دنیا بھر کے ذائقوں کو ایک دوسرے سے جوڑا جا سکتا ہے۔

مستقبل میں کن شعبوں میں استعمال ممکن ہے؟

ماہرین کا کہنا ہے۔ کہ اس ٹیکنالوجی کے استعمال کے امکانات صرف ٹی وی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ مستقبل میں اسے آن لائن کھانا پکانے کی تربیت ریستورانوں کی ورچوئل مارکیٹنگ فاصلاتی تعلیم (ذائقے پر مبنی تربیت) فوڈ ریویوز اور ڈیجیٹل فوڈ ایکسپیریئنس جیسے شعبوں میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔

قیمت اور دستیابی

ابتدائی پروٹوٹائپ گزشتہ سال تیار کیا جا چکا ہے، جبکہ کمرشل ورژن کی ممکنہ قیمت تقریباً ایک لاکھ جاپانی ین (یعنی تقریباً 639 امریکی ڈالر) بتائی جا رہی ہے۔ تاہم یہ ڈیوائس فی الحال عام صارفین کے لیے دستیاب نہیں اور مزید تحقیق و بہتری کے مراحل سے گزر رہی ہے۔

نتیجہ

ٹیسٹ دی ٹی وی‘ ٹیکنالوجی اس بات کی عکاس ہے۔ کہ مستقبل میں ٹی وی دیکھنا صرف دیکھنے اور سننے تک محدود نہیں رہے گا۔ بلکہ ذائقہ محسوس کرنا بھی ممکن ہو جائے گا۔ اگر یہ ٹیکنالوجی عام ہو گئی۔ تو ڈیجیٹل دنیا میں انسانی حِسّیات کا تجربہ یکسر بدل سکتا ہے۔
مزید پڑھیں
زمین پر سب سے طویل اندھیرا کب آئے گا؟ جانیں تاریخ اور وقت

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

:متعلقہ مضامین