قومی پالیسی پر ابہام
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے الزام عائد کیا ہے۔ کہ قومی پالیسی پر ابہام پیدا کرنا پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی مستقل پالیسی رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا۔ کہ ریاستی معاملات پر غیر ذمہ دارانہ بیانات ملک کے مفاد کے خلاف ہیں۔
پی ٹی آئی کی حکمتِ عملی
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا افغانستان سے دہشت گردی کے ثبوت مانگ رہے ہیں، حالانکہ یہ ایک کھلا سوال ہے کہ سہیل آفریدی کو اب تک یہ معلوم کیوں نہیں کہ دہشت گردی کہاں سے ہو رہی ہے۔
دہشت گردی کے واقعات میں خطرناک اضافہ
وزیر مملکت نے کہا۔ کہ دو ہزار پچیس پاکستان کی تاریخ کا وہ سال ہے۔۔ جس میں سب سے زیادہ دہشت گردی کے واقعات پیش آئے، اور ان میں سے بڑی تعداد خیبر پختونخوا میں ہوئی۔ ان کا کہنا تھا۔ کہ یہ ایک لمحۂ فکریہ ہے کہ سب سے زیادہ متاثرہ صوبے کی قیادت ہی حقائق سے آنکھیں چرا رہی ہے۔
سیف سٹی منصوبوں پر سوالات
طلال چوہدری نے خیبر پختونخوا میں سیف سٹی منصوبہ نہ بننے پر بھی سوال اٹھایا اور کہا کہ وہاں یہ منصوبے اس لیے نہیں بنائے جاتے۔ تاکہ دہشت گردوں کی شناخت اور گرفتاری ممکن نہ ہو سکے۔ انہوں نے کہا۔ کہ جدید ٹیکنالوجی سے لیس نگرانی نظام دہشت گردی کے خاتمے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ مگر اس سمت میں دانستہ غفلت برتی جا رہی ہے۔
احتجاج کی اجازت، مگر قومی بیانیے پر سمجھوتہ نہیں
وزیر مملکت برائے داخلہ نے واضح پیغام دیتے ہوئے کہا۔ کہ سیاسی احتجاج ہر جماعت کا حق ہے۔ چاہے سو بار بھی تحریک چلائی جائے، لیکن پاکستان کے خلاف رویہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا۔ کہ چاہے وزیراعلیٰ ہو یا کوئی عام سیاسی رہنما، قومی بیانیے کے خلاف گفتگو ناقابل قبول ہے اور ریاست اس پر خاموش نہیں رہے گی۔
مزید پڑھیں
وہاڑی: ہیڈ اسلام پر ایک ارب روپے کے گراؤنڈ واٹر ریچارج منصوبے کا افتتاح











