ٹیکنالوجی کمپنی ٹیسلا کے سربراہ ایلون مسک نے دعویٰ کیا ہے کہ آنے والے تقریباً دس برسوں میں دنیا بھر میں انسان نما روبوٹس (Humanoid Robots) کی تعداد ایک ارب تک پہنچ سکتی ہے۔ مسک کے مطابق مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس میں تیز رفتار ترقی مستقبل میں کام کرنے کے طریقوں کو تبدیل کر سکتی ہے۔
انسان نما روبوٹس کی تعداد میں اضافے کا دعویٰ
ایلون مسک کا کہنا ہے کہ مستقبل میں انسان نما روبوٹس بڑے پیمانے پر تیار کیے جا سکتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ روبوٹس مختلف شعبوں میں انسانی کاموں میں مدد فراہم کرسکتے ہیں اور عالمی پیداوار میں اضافہ کرسکتے ہیں۔
ٹیسلا کا روبوٹ منصوبہ
ٹیسلا انسان نما روبوٹ Optimus پر کام کر رہی ہے، جسے صنعتی اور روزمرہ کے کاموں میں استعمال کرنے کے مقصد سے تیار کیا جا رہا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ مستقبل میں ایسے روبوٹس کی تیاری میں اضافہ کیا جاسکتا ہے۔
مصنوعی ذہانت کا اہم کردار
ماہرین کے مطابق انسان نما روبوٹس کی ترقی میں مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، سینسرز اور جدید ہارڈویئر کا اہم کردار ہوگا۔ روبوٹس کو ماحول سمجھنے اور مختلف کام انجام دینے کے لیے زیادہ جدید سافٹ ویئر کی ضرورت ہوگی۔
روبوٹکس کے شعبے میں تیزی
دنیا بھر میں کئی کمپنیاں انسان نما روبوٹس کی تیاری پر کام کر رہی ہیں۔ تاہم موجودہ وقت میں ان روبوٹس کی تعداد اب بھی محدود ہے اور انہیں زیادہ تر تحقیق، تجربات اور مخصوص صنعتی کاموں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مختلف خیالات
کچھ ماہرین ایلون مسک کے اندازوں کو مستقبل کی ممکنہ سمت قرار دیتے ہیں، جبکہ بعض ماہرین کے مطابق بڑے پیمانے پر انسان نما روبوٹس کی تیاری کے لیے ٹیکنالوجی، لاگت، توانائی اور عملی استعمال سے متعلق کئی چیلنجز موجود ہیں۔
روبوٹس سے ممکنہ تبدیلیاں
اگر انسان نما روبوٹس بڑے پیمانے پر دستیاب ہوتے ہیں تو یہ صنعت، صحت، خدمات اور دیگر شعبوں میں معاون کردار ادا کرسکتے ہیں۔ تاہم ماہرین کے مطابق ان کے استعمال کے لیے حفاظتی اصول، اخلاقی ضابطے اور مناسب قوانین بھی اہم ہوں گے۔
مستقبل کی ٹیکنالوجی پر نظریں
ایلون مسک کا یہ بیان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے مستقبل پر جاری عالمی بحث کا حصہ ہے۔ آنے والے برسوں میں یہ واضح ہوگا کہ انسان نما روبوٹس کس رفتار سے ترقی کرتے ہیں اور عملی زندگی میں ان کا کردار کتنا بڑھتا ہے










