کراچی میں قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں میں آنکھوں کی بیماری تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ صورتحال تشویشناک حد تک پہنچ چکی ہے اور بچوں کی بینائی کے لیے شدید خطرہ بن گئی ہے۔
ریٹینوپیتھی آف پریمچوریٹی کیا ہے؟
یہ بیماری وہ ہے جو 30 ہفتے سے قبل پیدا ہونے والے بچوں اور جن کا وزن ڈیڑھ کلو سے کم ہو، میں ہوتی ہے۔ اس میں آنکھ کی خون کی نالیاں غیر معمولی طور پر بڑھ جاتی ہیں اور شروع میں اس کی کوئی واضح علامات نظر نہیں آتیں۔
خطرے کے عوامل
بہت کم پیدائشی عمر وزن ڈیڑھ کلو سے کم ہونا آکسیجن کی زیادہ مقدار خون کی کمی یا خون لگوانا سانس کی تکلیف یہ عوامل آنکھ کی نشوونما پر اثر انداز ہوتے ہیں اور بیماری کے خطرے کو بڑھاتے ہیں۔
بیماری کے مراحل اور علامات
اس بیماری کے پانچ مراحل ہیں۔ چوتھا اور پانچواں مرحلہ انتہائی خطرناک تصور کیا جاتا ہے۔ اہم علامات (شدید مراحل میں) بچے کی آنکھ میں پانی آنا آنکھوں کی غیر معمولی حرکت آنکھ کے پردے پر سفید جھلی کا نظر آنا
بروقت معائنہ کیوں ضروری ہے؟
ماہرین کے مطابق ہر بچہ جو 30 ہفتے سے قبل پیدا ہوا ہو یا جس کا وزن ڈیڑھ کلو سے کم ہو۔ اس کا معائنہ لازمی ہے۔ بروقت معائنہ کرنے سے بیماری کے سنگین مراحل سے بچا جا سکتا ہے۔
معائنہ کا وقت
اگر بچہ 24 تا 28 ہفتے میں پیدا ہوا ہو تو 31 ہفتے پر معائنہ ضروری ہے۔
معائنہ کیسے کیا جاتا ہے؟
اسپتالوں میں جدید آلات کے ذریعے بچوں کی آنکھوں کی تصاویر لی جاتی ہیں۔ تاکہ معلوم ہو سکے کہ بیماری کس مرحلے پر ہے۔
کراچی میں علاج کی صورتحال
جناح اسپتال کراچی بیماری کے لیے خصوصی پروگرام موجود جدید آلات سے معائنہ بچوں کے علاج کے لیے مفت انجیکشنز ہزاروں بچوں کا معائنہ سو سے زائد بچوں کا مفت علاج مکمل
علاج کے طریقے
روشنی کی تھراپی انجیکشن شدید کیسز میں سرجری بعض بچوں کو کئی ہفتوں تک انجیکشن دینا پڑتا ہے
ملک بھر سے مریض کراچی کیوں آتے ہیں؟
کراچی میں صرف جناح اسپتال میں جدید آلات موجود ہیں۔ اسی لیے دیگر علاقوں سے متاثرہ بچے یہاں معائنہ اور علاج کے لیے آتے ہیں۔
اگر علاج نہ ہو تو کیا ہوتا ہے؟
بروقت معائنہ نہ ہونے کی صورت میں بچے کی بینائی مستقل طور پر متاثر ہو سکتی ہے۔ اور شدید مراحل میں مکمل نابینا پن کا خطرہ ہوتا ہے۔
ماہرین کی اپیل
ڈاکٹر والدین سے اپیل کرتے ہیں۔ کہ 30 دن کے اندر معائنہ کرائیں علامات کا انتظار نہ کریں۔ کم وزن اور قبل از وقت پیدا ہونے والے بچوں کو فوراً ماہر ڈاکٹر کے پاس لے جائیں
ماہرین کی رائے
ماہرین کے مطابق بیماری کے بڑھتے کیسز کی وجہ بروقت معائنہ کی کمی والدین میں آگاہی کی کمی مناسب آلات اور تربیت یافتہ عملے کی کمی قبل از وقت پیدائش میں اضافہ، جس کی وجہ غربت اور غذائی قلت ہے
مزید پڑھیں
ڈینگی کے خلاف بڑی پیش رفت، برازیل نے سنگل ڈوز ویکسین منظور کر لی











