روس کبھی دباؤ میں نہیں آئے گا
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے امریکی پابندیوں پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ روس کسی بھی عالمی دباؤ کے آگے نہیں جھکے گا۔ انہوں نے کہا۔ کہ خودمختار ممالک اپنے فیصلے خود کرتے ہیں، اور روس بھی اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے آزادانہ پالیسی پر عمل کرے گا۔
امریکی اقدامات کو غیر دوستانہ قرار دیا
صدر پیوٹن نے کہا۔ کہ امریکا کے حالیہ اقدامات روس اور امریکا کے تعلقات کو مزید کمزور کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق، یہ پابندیاں دو ممالک کے درمیان پہلے سے موجود تناؤ میں اضافہ کریں گی، اور سفارتی تعلقات مزید متاثر ہوں گے۔
روسی معیشت پر ممکنہ اثرات
روسی صدر نے اعتراف کیا۔ کہ نئی امریکی پابندیوں کے باعث معیشت پر وقتی دباؤ پڑ سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے یقین دلایا کہ روس ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔ ان کا کہنا تھا۔ کہ حکومت معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے متبادل راستے اختیار کرے گی۔
امریکی پابندیاں تیل کمپنیوں پر
امریکا نے روس کی دو بڑی تیل کمپنیوں، روزنیفٹ اور لک آئل، پر نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ ان پابندیوں کا مقصد کریملن کو یوکرین جنگ کے خاتمے پر آمادہ کرنا بتایا گیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق، یہ اقدامات روس پر معاشی دباؤ بڑھانے کے لیے کیے گئے ہیں۔
روس اور امریکا کے تعلقات میں مزید تناؤ
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے۔ کہ ان پابندیوں کے بعد روس اور امریکا کے تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا ہو سکتی ہے۔ پیوٹن کا دو ٹوک مؤقف ظاہر کرتا ہے۔ کہ روس اپنی خارجہ پالیسی میں کسی بیرونی دباؤ کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں۔
مزید پڑھیں











