اہم اجلاس اور فیصلے
پنجاب میں کفایت شعاری کمیٹی کا پہلا اجلاس منعقد ہوا جس میں موجودہ معاشی صورتحال اور خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں حکومتی اخراجات کم کرنے کے اہم فیصلے کیے گئے۔ اجلاس میں وسائل کے محتاط استعمال اور غیر ضروری اخراجات پر قابو پانے پر زور دیا گیا۔
تنخواہوں میں رضاکارانہ کٹوتی
اجلاس کے دوران اہم فیصلہ کیا گیا کہ صوبائی کابینہ دو ماہ تک تنخواہیں نہیں لے گی۔ اس کے علاوہ گریڈ 17 سے اوپر افسران کی دو دن کی تنخواہ کٹوتی کی جائے گی جبکہ ارکان اسمبلی کی تنخواہوں میں بھی کمی کا اعلان کیا گیا۔
ارکان اسمبلی اور اداروں پر اثرات
شرکا کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ارکان اسمبلی کی دو ماہ کی تنخواہوں اور الاؤنسز سے 25 فیصد کٹوتی کی جائے گی۔ مزید یہ کہ دو ماہ تک سرکاری کمپنیوں اور اداروں کے بورڈ ممبرز کو فیس ادا نہیں کی جائے گی۔
سرکاری اخراجات میں کمی
اجلاس میں سرکاری محکموں میں گاڑیوں کی خریداری پر مکمل پابندی عائد رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ نئی گاڑی کی خریداری کو محکمہ خزانہ کی منظوری سے مشروط کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی دفاتر میں بجلی اور فیول کے اخراجات کم کرنے کے لیے محدود عملہ بلانے کا فیصلہ کیا گیا۔
آن لائن میٹنگز اور توانائی کی بچت
سرکاری امور کے لیے آن لائن میٹنگز کو ترجیح دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ غیر ضروری کمروں کو بند رکھنے اور اے سی و لائٹس کے استعمال میں کمی کے اقدامات بھی شامل ہیں۔ نجی شعبے کو بھی کفایت شعاری اپنانے کی ہدایت دی گئی ہے۔
مالی نظم و ضبط پر زور
اجلاس میں مختلف محکموں کی جانب سے مالی نظم و ضبط بہتر بنانے کے لیے تجاویز پیش کی گئیں۔ تمام محکموں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ کفایت شعاری اقدامات پر ہفتہ وار رپورٹس پیش کریں تاکہ ان پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔
مزید پڑھیں
پانی بھرنے کے دوران 72 انچ پائپ لائن میں گرنے والی بچی کی 45 گھنٹے بعد لاش برآمد











