اسلام آباد میں پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان ممکنہ مفاہمت سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ پی ٹی آئی رہنما بیرسٹر محمد علی سیف نے انکشاف کیا ہے۔ کہ وہ عمران خان کی ہدایت پر دونوں فریقین کے درمیان رابطوں میں سہولت کاری کر رہے ہیں۔
بیرسٹر سیف کا مؤقف
دی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے۔ بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا۔ کہ عمران خان کی جانب سے انہیں دی گئی۔ آخری ہدایت یہی تھی۔ کہ وہ پی ٹی آئی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان روابط کو بہتر بنانے میں کردار ادا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ عمران خان اور بشریٰ بی بی دونوں کی رہائی کے خواہاں ہیں اور اس مقصد کے لیے ہر ممکن کردار ادا کرنے کو تیار ہیں۔
اسٹیبلشمنٹ سے پرانے روابط
بیرسٹر سیف نے واضح کیا۔ کہ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ ان کے روابط کئی دہائیوں پر محیط ہیں اور وہ ان تعلقات کو صرف اپنے قائد اور پارٹی کے مفاد میں استعمال کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا۔ کہ رابطے ذاتی مفاد کے لیے نہیں بلکہ سیاسی استحکام کے لیے ہیں۔
عمران خان سے آخری ملاقات
ذرائع کے مطابق بیرسٹر محمد علی سیف کی عمران خان سے آخری ملاقات گزشتہ برس چار نومبر کو اڈیالہ جیل میں ہوئی تھی۔ اس ملاقات کے بعد سے وہ مفاہمتی کوششوں میں سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔
پی ٹی آئی میں اندرونی اختلافات
اگرچہ پی ٹی آئی کو سخت مؤقف رکھنے والے رہنماؤں اور مفاہمت کے حامی دھڑے میں منقسم سمجھا جاتا ہے۔ تاہم بیرسٹر سیف ان رہنماؤں میں شامل ہیں۔ جو محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات اور مفاہمت کو ترجیح دیتے ہیں۔
سوشل میڈیا پیغام اور قومی مفاد
گزشتہ ماہ بیرسٹر سیف نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں کہا تھا۔ کہ پی ٹی آئی اور دفاعی اداروں کے درمیان کشیدگی کسی صورت ملک و قوم کے مفاد میں نہیں۔ ان کے مطابق دونوں فریقین کو تحمل، ذمہ داری اور دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے مسائل کا پائیدار حل تلاش کرنا چاہیے۔ انہوں نے زور دیا۔ کہ نفرت انگیز بیانات، کردارکشی اور مسلسل تنقید سے حالات مزید خراب ہو سکتے ہیں۔ جبکہ موجودہ معاشی اور سیاسی چیلنجز کے پیش نظر اتحاد، اتفاقِ رائے اور یکجہتی ناگزیر ہے۔
مزید پڑھیں
مفت عمرہ کے بہانے سعودی عرب آئس اسمگل کرنے والا خطرناک ڈیلر گرفتار











