آئین، 18ویں ترمیم اور صوبائی خودمختاری کے دفاع کا وقت آ گیا ہے، مولانا فضل الرحمان پاکستان کی مالی ذمہ داری مکمل، یو اے ای کے ڈپازٹس واپس کر دیے امریکا کا بڑا قدم، آبنائے ہرمز میں ایران کی صلاحیتوں کو نشانہ بنانے کا منصوبہ حکومت سندھ کا یکم مئی کو عام تعطیل کا اعلان، نوٹیفکیشن جاری
A bold graphic with the words "BREAKING NEWS" in red and black, conveying urgency and importance in news reporting.

پی ٹی آئی کا آئینی ترامیم پر شدید ردعمل، 31 اکتوبر تک التوا کا مطالبہ

pti Pakistan Tareekh e Insaf Imran Khan remarks on constitutional amendment

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں آئینی ترامیم کا معاملہ 31 اکتوبر تک موخر کرنے کا پُرزور مطالبہ کیا۔ پارٹی نے حکومتی ارکان پر دباؤ ڈالنے اور پارٹی اراکین کو ہراساں کرنے کا بھی الزام عائد کیا۔

آئینی ترامیم پر مشاورت کا التوا، اعتماد میں لینے کا مطالبہ
اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کے رہنما عمر ایوب نے پارلیمانی کمیٹی میں آئینی ترامیم پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب تک ہماری خدشات کو دور نہیں کیا جاتا، ترامیم پر مشاورت 31 اکتوبر کے بعد ہی ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی میں ترامیم کو جلد بازی میں منظور کرانے کی کوشش ہو رہی ہے، جو ناقابل قبول ہے۔

پی ٹی آئی ارکان پر دباؤ، ہراساں کرنے کا معاملہ
اجلاس کے دوران اپوزیشن لیڈر نے پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کو ہراساں کرنے اور ان کے گھروں پر غیر قانونی چھاپے مارنے کا معاملہ بھی اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ ارکان اسمبلی کے کاروبار کو زبردستی بند کرایا جا رہا ہے اور بانی پی ٹی آئی سے ملاقاتوں پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ بیرسٹر گوہر نے کہا کہ جب تک پارٹی کے بانی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی جاتی، ترامیم کا مسودہ پیش نہیں کیا جائے گا۔

:دوسروں کے ساتھ اشتراک کریں

:متعلقہ مضامین