امریکا کی جانب سے ایران پر مجوزہ فوجی حملہ مؤخر کیے جانے کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی، جس سے سرمایہ کاروں کے خدشات کم ہوئے اور مارکیٹ میں مثبت رجحان پیدا ہوا۔
تیل کی قیمتوں میں کمی
بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق برینٹ خام تیل کی قیمت 1.21 ڈالر کمی کے بعد 89.17 ڈالر فی بیرل تک آگئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل 1.23 ڈالر کمی کے ساتھ 86.48 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوتا رہا۔
ہفتہ وار بنیاد پر بھی خسارہ
رپورٹس کے مطابق ہفتہ وار بنیادوں پر بھی تیل کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ برینٹ خام تیل میں مجموعی طور پر 4.2 فیصد جبکہ ڈبلیو ٹی آئی میں 4.4 فیصد کمی دیکھی گئی۔
سرمایہ کاروں کے خدشات کم
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ فوجی تصادم کے خدشات کے باعث عالمی منڈی دباؤ کا شکار تھی، تاہم حملہ مؤخر ہونے کے بعد سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہونا شروع ہوگیا۔
آئندہ صورتحال پر نظر
تجزیہ کاروں کے مطابق تیل کی قیمتوں کا مستقبل ایران، امریکا اور مشرق وسطیٰ کی سیکیورٹی صورتحال سے جڑا رہے گا، جبکہ سفارتی پیش رفت بھی عالمی توانائی منڈیوں پر اثرانداز ہوسکتی ہے۔
مزید پڑھیں
مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف نجی دورے پر جنیوا سے جدہ پہنچ گئے










