سلامتی کونسل میں پاکستان کا مؤقف
پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ طاقت کے استعمال سے مسائل مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں اور عالمی امن کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
عالمی امن کو لاحق خدشات
سلامتی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب عثمان جدون نے کہا کہ کیریبین خطے میں عدم استحکام علاقائی ہی نہیں بلکہ عالمی امن و سلامتی کے لیے بھی نیک شگون نہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دنیا پہلے ہی مختلف سیاسی اور معاشی بحرانوں کا سامنا کر رہی ہے۔
اقوام متحدہ کے چارٹر کی پاسداری پر زور
پاکستانی مندوب نے زور دیا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت کسی بھی ملک کی سرحدی سالمیت یا سیاسی خودمختاری کے خلاف طاقت کے استعمال یا دھمکی کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ یو این منشور ریاستوں کو ایک دوسرے کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے روکتا ہے۔
یکطرفہ فوجی کارروائی پر تنقید
عثمان جدون نے یکطرفہ فوجی کارروائی کو اقوام متحدہ کے چارٹر اور ریاستی خودمختاری کے اصولوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے اقدامات عالمی قانونی نظام کی بنیادوں کو کمزور کر سکتے ہیں اور ان کے اثرات آنے والے برسوں تک غیر متوقع اور بے قابو ہو سکتے ہیں۔
مکالمے اور سفارتکاری ہی واحد حل
پاکستانی مندوب نے کہا کہ موجودہ نازک صورتحال میں مکالمہ اور سفارتکاری ہی آگے بڑھنے کا واحد مؤثر راستہ ہے۔ انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں، کشیدگی میں کمی لائیں اور پُرامن بقائے باہمی کو فروغ دیں۔
مزید پڑھیں
کراچی میں غیر قانونی تعمیرات پر بڑا ایکشن، ایس بی سی اے افسران کی برطرفی کا فیصلہ











